data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: پنجاب بھر میں ایک بار پھر گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس نے جہاں گرمی اور حبس کا زور توڑ دیا ہے وہیں نظامِ زندگی بھی متاثر کر کے رکھ دیا۔

صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت جنوبی اور وسطی پنجاب کے متعدد شہروں میں وقفے وقفے سے ہونے والی بارش نے موسم خوشگوار کر دیا ہے مگر کئی علاقوں میں سڑکیں اور نشیبی بستیاں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔

لاہور، ساہیوال، وہاڑی، پیرمحل، چیچہ وطنی، جڑانوالہ، اوکاڑہ، شجاع آباد، احمد پور شرقیہ، بورے والا، پتوکی اور ننکانہ صاحب سمیت درجنوں شہروں میں بادل گرجنے اور تیز ہوائیں چلنے کے بعد موسلا دھار بارش برسی، جس سے سردی کی ابتدائی لہر محسوس کی جا رہی ہے۔

شہریوں نے گرمی سے نجات پر سکھ کا سانس لیا لیکن دوسری جانب کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے آمد و رفت میں مشکلات پیدا ہو گئیں۔

موسلا دھار بارش کے باعث مختلف شہروں میں بجلی کے درجنوں فیڈر ٹرپ کر گئے جس سے کئی علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے۔ وہاڑی، چیچہ وطنی، بورے والا اور پتوکی میں بجلی معطلی کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں جبکہ شہریوں کو پانی کی نکاسی کے لیے بلدیاتی اداروں کی کارکردگی پر شدید تحفظات ہیں۔

لاہور کے نشیبی علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے سے ٹریفک جام رہا۔ شجاع آباد اور پیرمحل میں شدید بارش کے دوران ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، بعض مقامات پر گھروں میں پانی داخل ہو گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق یہ سلسلہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹے تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ بارشوں کا یہ نیا سلسلہ مون سون کے اختتامی مرحلے کا حصہ ہے، جو پورے صوبے میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی کا باعث بنے گا۔ اگلے 2 دن کے دوران بہاولپور، ملتان، فیصل آباد اور لاہور ڈویژن میں بھی مزید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور برقی تنصیبات کے قریب احتیاط برتیں۔ بارش سے موسم خوشگوار ضرور ہوا ہے مگر بجلی کی معطلی، ٹریفک جام اور پانی کے نکاس کے مسائل ایک بار پھر انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان چھوڑ گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔

اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔

موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی