پنجاب حکومت کے پاس کرنے کو بہت کچھ ہے جس کی کچھ لوگوں کو تکلیف ہے، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کے پاس کرنے کو بہت کچھ ہے جس کی کچھ لوگوں کو تکلیف ہے، جو کچھ نہیں کرسکتے وہ منہ ہلا سکتے ہیں۔
ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ کا اجلاس آج ہوا ہے، پنجاب کے سیلاب کے حوالے بریفنگ دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پنجاب کا سب سے بڑا سیلاب تھا، 3 دریاؤں میں طغیانی کے باوجود پنجاب حکومت تیار نہ ہوتی تو نقصان بہت زیادہ ہوتا، اس سے سنتالیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، وزیر اعلی پنجاب نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ سانپ کے کانٹنے سے کسی بھی انسانی جان کا ضیاع نہیں ہوا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ انتالیس فیصد رین فال زیادہ تھا، آج پوری کابینہ نے اس بات پر تکلیف کا اظہار کیا کہ ہم سب پاکستانی ہیں، پنجاب نے بڑا صوبہ ہونے اور بڑے بھائی ہونے کا کردار ادا کیا ہے، لیکن جب پنجاب پر مشکل ٹائم آیا تو اس کو اپنی سیاست کے لئے استعمال کیا گیا۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ پنجاب کے ساتھ جو سلوک ہوا وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ وہ دل گرفتہ ہیں، اس سیلاب میں جانوں کا ضیاع دو ہزار دس کے سیلاب سے آدھا ہے، 25 اضلاع میں تیاری مکمل تھی سیلاب کے باوجود زیادہ مسائل سامنے نہیں آئے، 2 اضلاع میں مشکلات کا سامنا تھا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں پر کیا نقصان ہوا ہے اندازہ لگایا جارہا ہے، سول ڈیفنس کے ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ ہزار روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 17 تحصیلوں کو تیار کیا گیا ہے کہ اس میں سیلاب کی ایکسر سائز کی جاسکے، جو لوگ سیلاب کے راستے میں رہتے تھے ان کو کسی بھی طرح کے پیسے نہیں دیے جاسکتے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ سیلاب کے راستوں میں رہتے ہیں ان کو کہا جائے گا کہ سیلاب کی بیلٹ سے باہر گھر بنائیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب بچوں میں لیپ ٹاپ بانٹ رہی ہیں یا بسوں کا افتتاح کررہی ہیں، پنجاب حکومت کے پاس کرنے کو بہت کچھ ہے جس کی کچھ لوگوں کو تکلیف ہے، کچھ بیچارے اوپر والے پورشن سے خالی ہیں وہ کہتے ہیں کہاں ہیں نوے ہزار گھر، بھائی یہ گھر بکنے کے لئے نہیں ہیں، جو کچھ نہیں کرسکتے وہ منہ ہلا سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بخاری نے کہا پنجاب حکومت نے کہا کہ سیلاب کے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔