وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کے پاس کرنے کو بہت کچھ ہے جس کی کچھ لوگوں کو تکلیف ہے، جو کچھ نہیں کرسکتے وہ منہ ہلا سکتے ہیں۔

ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ کا اجلاس آج ہوا ہے، پنجاب کے سیلاب کے حوالے بریفنگ دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پنجاب کا سب سے بڑا سیلاب تھا، 3 دریاؤں میں طغیانی کے باوجود پنجاب حکومت تیار نہ ہوتی تو نقصان بہت زیادہ ہوتا، اس سے سنتالیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، وزیر اعلی پنجاب نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ سانپ کے کانٹنے سے کسی بھی انسانی جان کا ضیاع نہیں ہوا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ انتالیس فیصد رین فال زیادہ تھا، آج پوری کابینہ نے اس بات پر تکلیف کا اظہار کیا کہ ہم سب پاکستانی ہیں، پنجاب نے بڑا صوبہ ہونے اور بڑے بھائی ہونے کا کردار ادا کیا ہے، لیکن جب پنجاب پر مشکل ٹائم آیا تو اس کو اپنی سیاست کے لئے استعمال کیا گیا۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ پنجاب کے ساتھ جو سلوک ہوا وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ وہ دل گرفتہ ہیں، اس سیلاب میں جانوں کا ضیاع دو ہزار دس کے سیلاب سے آدھا ہے، 25 اضلاع میں تیاری مکمل تھی سیلاب کے باوجود زیادہ مسائل سامنے نہیں آئے، 2 اضلاع میں مشکلات کا سامنا تھا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں پر کیا نقصان ہوا ہے اندازہ لگایا جارہا ہے، سول ڈیفنس کے ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ ہزار روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 17 تحصیلوں کو تیار کیا گیا ہے کہ اس میں سیلاب کی ایکسر سائز کی جاسکے، جو لوگ سیلاب کے راستے میں رہتے تھے ان کو کسی بھی طرح کے پیسے نہیں دیے جاسکتے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ سیلاب کے راستوں میں رہتے ہیں ان کو کہا جائے گا کہ سیلاب کی بیلٹ سے باہر گھر بنائیں۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب بچوں میں لیپ ٹاپ بانٹ رہی ہیں یا بسوں کا افتتاح کررہی ہیں، پنجاب حکومت کے پاس کرنے کو بہت کچھ ہے جس کی کچھ لوگوں کو تکلیف ہے، کچھ بیچارے اوپر والے پورشن سے خالی ہیں وہ کہتے ہیں کہاں ہیں نوے ہزار گھر، بھائی یہ گھر بکنے کے لئے نہیں ہیں، جو کچھ نہیں کرسکتے وہ منہ ہلا سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بخاری نے کہا پنجاب حکومت نے کہا کہ سیلاب کے

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی