تائیوان کے صدر لائی چنگ تے نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چینی صدر شی جن پنگ کو تائیوان کے خلاف طاقت کے استعمال سے باز رکھنے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ نوبل امن انعام کے مستحق ہوں گے۔

صدر لائی نے یہ بات امریکی ریڈیو پروگرام ‘دی کلے ٹریوس اینڈ بک سیکسٹن شو’ پر گفتگو کے دوران کہی، جو امریکا کے 400 سے زائد ریڈیو اسٹیشنز پر نشر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: چین کسی بھی وقت تائیوان پر حملہ کرسکتا ہے، شنگریلا ڈائیلاگ سیکیورٹی کانفرنس میں امریکی وزیر دفاع کا دعویٰ

انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ صدر ٹرمپ ہماری حمایت جاری رکھیں گے۔ اگر وہ شی جن پنگ کو مستقل طور پر کسی بھی فوجی جارحیت سے باز رکھ سکیں تو وہ بلا شبہ نوبل امن انعام کے حقدار ہوں گے۔

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ رواں ماہ جنوبی کوریا میں ہونے والے ایشیا پیسفک سربراہی اجلاس کے دوران شی جن پنگ سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ صدر لائی نے کہا کہ اگر انہیں ٹرمپ سے ملاقات کا موقع ملا تو وہ انہیں مشورہ دیں گے کہ چین کے بڑھتے ہوئے فوجی اقدامات پر گہری نظر رکھیں۔

ان کے بقول شی جن پنگ تائیوان کے گرد بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں کر رہے ہیں اور مشرقی و جنوبی بحیرہ چین میں بھی اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: تائیوان کے حوالے سے ہمارا موقف واضح، ون چائنا پالیسی پر عمل پیرا ہیں، پاکستان

تائیوان کی وزارتِ دفاع کے مطابق منگل کو چین کے 23 فوجی طیارے اور ڈرونز نے جزیرے کے گرد مشترکہ جنگی تیاریوں کی مشقیں کیں۔

صدر لائی نے خبردار کیا کہ چین کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں نہ صرف تائیوان بلکہ عالمی نظام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تائیوان پر قبضہ کیا گیا تو چین کو بین الاقوامی سطح پر امریکا کے مقابلے میں زیادہ طاقت مل جائے گی، جو عالمی نظم کو متاثر کرے گی اور بالآخر امریکی مفادات کو بھی نقصان پہنچائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تائیوان چین صدر ٹرمپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تائیوان چین تائیوان کے صدر لائی نے کہا

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار