اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ بلومبرگ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے دنیا بھر میں سویورن ڈیفالٹ رسک میں کمی کے لحاظ سے دوسری سب سے زیادہ بہتری دکھائی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے دنیا بھر میں سویورن ڈیفالٹ رسک میں کمی کے لحاظ سے دوسری سب سے زیادہ بہتری دکھائی ہے جبکہ بہتری عالمی مارکیٹ میں کریڈٹ ڈیفالٹ سویپ امپلائیڈ ڈیفالٹ پروبیبلیٹی کے پیمانے سے ناپی گئی۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان نے گزشتہ 15 ماہ جون 2024ء سے ستمبر 2025ء تک میں ڈیفالٹ رسک میں کمی کے لحاظ سے دنیا بھر میں ترکیہ کے بعد دوسرا نمبر حاصل کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان واحد ابھرتی ہوئی معیشت ہے جس میں پچھلے ایک سال کے دوران ہر سہ ماہی میں مسلسل بہتری دیکھی گئی۔ پاکستان کا ڈیفالٹ رسک تقریباً 2200 بیسس پوائنٹس کم ہوا۔ خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ یہ کمی بڑے ابھرتے ہوئے ممالک میں سب سے نمایاں ہے۔ ارجنٹینا، مصر اور نائجیریا جیسے ممالک میں ڈیفالٹ رسک میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ پاکستان نیویارک شہر میں واقع روز ویلٹ ہوٹل کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں عمارت کو گرانا بھی شامل ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کی کوششوں کا حصہ ہے۔ مسلسل بڑھتے ہوئے مالی نقصانات کے باعث، ایک ہزار سے زائد کمروں والا یہ ہوٹل 2020 میں بند کر دیا گیا تھا، اور کچھ عرصے کے لیے اسے مہاجرین کی عارضی قیام گاہ کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔ 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف قرضہ معاہدے کے تحت، حکومت نے جولائی میں ’روزویلٹ ہوٹل کے لین دین کا ڈھانچہ‘ (ٹرانزیکشن سٹرکچر) منظور کیا، اور کہا کہ وہ ہوٹل کو براہ راست فروخت نہیں کرے گی بلکہ طویل مدتی قدر میں اضافے کے لیے مشترکہ سرمایہ کاری (جوائنٹ وینچر) کا ماڈل اپنائے گی۔ وزیرِ اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے بلومبرگ کو بتایا کہ ایک آپشن یہ ہے کہ ’ اس تاریخی عمارت کو مسمار کر کے اس کی جگہ ایک فلک بوس عمارت (سکائی سکریپر) تعمیر کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ڈیفالٹ رسک میں

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان