برطانیہ میں ریکارڈ توڑ کڑاکے کی سردی؛ اسکول بند اور معمولاتِ زندگی معطل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
برطانیہ میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب موسمِ خزاں کی سرد ترین رات ریکارڈ کی گئی جب اسکاٹ لینڈ میں درجہ حرارت منفی 12.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق درجہ حرارت منفی 12.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے سے یہ گزشتہ 15 برس میں نومبر کی سرد ترین رات تھی۔
اسکاٹ لینڈ کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی کڑاکے کی سردی ریکارڈ کی گئی جب کہ ویلز میں منفی 7.
شدید متاثرہ علاقوں اسکاٹ لینڈ، نارتھ یارکشائر، ایسٹ یارکشائر، ویلز، پینبروکشائر وغیرہ میں اسکول بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
شدید سردی کے باعث برطانیہ کے صحت ایجنسی نے انگلینڈ کے علاقوں نارتھ ایسٹ اور یارکشائر اینڈ ہمبر میں امبر کولڈ ہیلتھ الرٹس جاری کیے ہیں جن کا اطلاق ہفتہ صبح 8 رہے گا۔
دیگر تمام علاقو کے لیے زرد انتباہ (Yellow Alert) جاری کیا گیا ہے۔
شدید برف باری سے ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ کئی مقامات پر گاڑیاں پھنس گئیں اور بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔
گلاسگو سینٹرل کی بعض ٹرینیں اوور ہیڈ لائنز خراب ہونے کے باعث رکاوٹ کا شکار رہیں۔ مسافروں کو روانگی سے قبل پیشگی معلومات لینے کی تاکید کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔