ارجنٹینا کے صدر کا راک شو، کتاب کی رونمائی سیاسی جلسے میں تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
ارجنٹینا کے صدر خاویر ملیئی نے اپنی کتاب کی تقریب رونمائی کو ایک غیر معمولی راک شو میں تبدیل کردیا، بیونس آئرس کے مووی اسٹار ایرینا میں تقریباً 2 گھنٹے تک صدر خاویر ملیئی نے ماہرِ معیشت اور فنکار کی دوہری حیثیت نبھائی۔
ان کی نئی کتاب ’دی کنسٹرکسیون دل میلاگرو‘ یعنی ’معجزے کی تعمیر‘ کی تقریب رونمائی روشنیوں، راک موسیقی اور انتخابی مہم جیسے خطاب کے امتزاج سے بھری ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹاگونیا میں 7 کروڑ سال پرانا ’بلڈوگ‘ مگر مچھ دریافت
پیر کے روز ہونے والا یہ پروگرام کنسرٹ اور سیاسی جلسہ دونوں کی آمیزش تھا، صدر خاویر ملیئی نے اپنی صدارتی بینڈ یعنی لا باندا پریزیڈنسیال کے ساتھ اسٹیج پر آ کر مشہورارجنٹائنی راک نغمے گائے۔
Milei presents new book singing rock in midst of political crisishttps://t.
— Buenos Aires Times (@theBAtimes) October 7, 2025
جس کا مقصد ان کی جماعت آزادی کی پیش قدمی کی بیونس آئرس کے صوبائی انتخابات میں مایوس کن کارکردگی کے بعد قیادت کو دوبارہ متحرک کرنا تھا۔
چمڑے کی جیکٹ اور گٹار کے ساتھ صدر ملیئی نے کتاب کی تقریبِ رونمائی کو ایک سیاسی مظاہرہ بنا دیا، جہاں نعروں، تالیاں اور جوشیلے حمایتی نعروں کی گونج سنائی دی۔
یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب ارجنٹینا کی سیاست میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: ارجنٹینا کے ساحل پر 7.5 شدت کا زلزلہ، سونامی کے خطرے کا خدشہ
اتوار کو خوسے لوئیس ایسپرٹ، جو ملیئی کے قریبی اتحادی اور بوئنوس آئرس صوبے سے حکومتی جماعت کے نمایاں امیدوار تھے، نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
حالیہ دنوں میں انکشاف ہوا تھا کہ ایسپرٹ نے سن 2020 میں دو لاکھ ڈالر ایک مشاورتی کام کے بدلے حاصل کیے تھے، جو ایک تاجر فریڈ ماچادو سے منسلک تھا، جو اب امریکا میں منشیات اسمگلنگ کے الزام میں قید ہے۔
اگرچہ ایسپرٹ نے کسی غلط کام کی تردید کی، مگر اس واقعے نے حکومت کے بدعنوانی مخالف مؤقف کو نقصان پہنچایا اور ملیئی کو اُن کے سب سے نمایاں اتحادی سے محروم کر دیا۔
مزید پڑھیں: فٹبال ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کا معاملہ، لیونل میسی کی جانب سے بڑی خبر آگئی
اسی دوران، ملیئی کی اقتصادی ٹیم، جس کی قیادت وزیرِ معیشت لوئیس کاپوتو کر رہے ہیں، اس ہفتے واشنگٹن میں ملاقاتیں کرے گی تاکہ 20 ارب ڈالر کے مالیاتی امدادی پیکیج کو حتمی شکل دی جا سکے اور آئی ایم ایف کے ساتھ تعاون کو مضبوط کیا جا سکے۔
کاپوتو نے امریکی وزارتِ خزانہ کے سیکرٹری اسکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کی، جنہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ وہ ارجنٹینا کی ’مضبوط پالیسیوں‘ کی حمایت کے لیے مختلف اختیارات پر ’ثمرآور گفتگو‘ جاری رکھیں گے۔
تاہم، حالیہ عوامی سرویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملیئی کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
مزید پڑھیں: ڈیاگو میراڈونا کے قتل کیس میں ٹرائل کالعدم کیوں قرار دیا گیا؟
تحقیقی ادارے مینجمنٹ اینڈ فِٹ کے مطابق، ان کی حمایت کی شرح 37.4 فیصد جبکہ منفی ریٹنگ 47.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
ایک اور ادارے زوبان کورڈوبا نے ان کی منظوری کی شرح 35.3 فیصد اور عدم منظوری 64.7 فیصد بتائی ہے۔
ستمبر میں حکومت پر عوامی اعتماد کی سطح صدر خاویر ملیئی کی صدارت کے دوران سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
متعدد سرویز کے مطابق، عوام کی سب سے بڑی تشویش اب افراطِ زر کے بجائے بدعنوانی بن چکی ہے، جو صدر ملیئی کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ارجنٹینا راک کنسرٹ صدر خاویر ملیئی گٹار مووی اسٹار ایرینا مینجمنٹ اینڈ فِٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ارجنٹینا راک کنسرٹ صدر خاویر ملیئی گٹار مینجمنٹ اینڈ ف ٹ صدر خاویر ملیئی ملیئی نے
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔