متحدہ عرب امارات کی تاریخ میں پہلی بار ایک اماراتی نژاد خاتون مس یونیورس کے بین الاقوامی مقابلے میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں گی۔ 

چھبیس سالہ مریم محمد، جو ایک فیشن اسٹوڈنٹ اور ماڈل ہیں، نومبر میں تھائی لینڈ میں ہونے والے اس عالمی مقابلے میں متحدہ عرب امارات کی پہلی نمائندہ بننے جا رہی ہیں۔

مس یونیورس 2025 کا مقابلہ تھائی لینڈ کے شہر میں منعقد ہوگا، جہاں دنیا بھر کی 130 سے زائد خوبصورت اور ہونہار خواتین اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گی۔ مریم محمد کی شرکت نہ صرف متحدہ عرب امارات بلکہ پورے عرب عالم کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

مریم محمد اس وقت فیشن ڈیزائننگ کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ماڈلنگ کے شعبے میں بھی فعال ہیں۔ ان کی اس تاریخی شرکت نے نہ صرف اماراتی میڈیا بلکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی ہے۔ یہ مقابلہ روایتی خوبصورتی کے معیارات سے ہٹ کر خواتین کی قیادت کی صلاحیتوں، ذہانت اور سماجی خدمات پر بھی توجہ مرکوز کرتا ہے۔

مس یونیورس آرگنائزیشن کے مطابق، یہ مقابلہ خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کرنے کے لیے وقف ہے۔ مریم محمد کی شرکت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ ایک ایسے ملک کی نمائندگی کر رہی ہیں جہاں خواتین تعلیم، کاروبار اور دیگر شعبوں میں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔
 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: کی نمائندگی مس یونیورس رہی ہیں

پڑھیں:

عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے

بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔

اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری