مس یونیورس مقابلے میں پہلی بار امارات کی نمائندگی، ماڈل مریم محمد شرکت کریں گی
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
متحدہ عرب امارات کی تاریخ میں پہلی بار ایک اماراتی نژاد خاتون مس یونیورس کے بین الاقوامی مقابلے میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں گی۔
چھبیس سالہ مریم محمد، جو ایک فیشن اسٹوڈنٹ اور ماڈل ہیں، نومبر میں تھائی لینڈ میں ہونے والے اس عالمی مقابلے میں متحدہ عرب امارات کی پہلی نمائندہ بننے جا رہی ہیں۔
مس یونیورس 2025 کا مقابلہ تھائی لینڈ کے شہر میں منعقد ہوگا، جہاں دنیا بھر کی 130 سے زائد خوبصورت اور ہونہار خواتین اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گی۔ مریم محمد کی شرکت نہ صرف متحدہ عرب امارات بلکہ پورے عرب عالم کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
مریم محمد اس وقت فیشن ڈیزائننگ کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ماڈلنگ کے شعبے میں بھی فعال ہیں۔ ان کی اس تاریخی شرکت نے نہ صرف اماراتی میڈیا بلکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی ہے۔ یہ مقابلہ روایتی خوبصورتی کے معیارات سے ہٹ کر خواتین کی قیادت کی صلاحیتوں، ذہانت اور سماجی خدمات پر بھی توجہ مرکوز کرتا ہے۔
مس یونیورس آرگنائزیشن کے مطابق، یہ مقابلہ خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کرنے کے لیے وقف ہے۔ مریم محمد کی شرکت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ ایک ایسے ملک کی نمائندگی کر رہی ہیں جہاں خواتین تعلیم، کاروبار اور دیگر شعبوں میں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی نمائندگی مس یونیورس رہی ہیں
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔