data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (پ ر)پاکستان تحریکِ انصاف کراچی کی ترجمان و سیکریٹری اطلاعات فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ کراچی اس وقت شدید ترین شہری و انتظامی بحران کا شکار ہے اور اس بدحالی کی واحد ذمہ دار پیپلزپاٹی ہے جس کے پاس موجودہ صوبائی اور شہری حکومتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اربوں روپے کے فنڈز کرپشن کی نذر ہو چکے ہیں جبکہ شہر بنیادی سہولیات سے محروم ہو کر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔فوزیہ صدیقی نے کہا پیپلزپارٹی نے ایک مرتبہ پھر کراچی کے شہریوں کے بے وقوف بنانے کے لئے کراچی پیکیج کے نام پر ایک افسانہ سنایاہے میئر کراچی نے کراچی کے انفرااسٹریچکر کی بحالی کے لئے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے ہیں سب فنڈز ہڑپ کرنے کی سازشیں ہیں۔ فوزیہ صدیقی نے کہا کہ پانی کا مسئلہ شہر کی سب سے بڑی ناکامی بن چکا ہے۔ عوام صاف پانی کے لیے روزانہ اذیت سہتے ہیں جبکہ ٹینکر مافیا حکومتی سرپرستی میں لوٹ مار میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم کے ہاتھوں کراچی کے شہریوں کی جان و مال غیر محفوظ ہوچکی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ڈکیتی، رہزنی اور قتل کی وارداتیں معمول بن چکی ہیں، مگر پولیس اور انتظامیہ مسلسل ناکام اور مجرمانہ غفلت کی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ فوزیہ صدیقی نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے مگر جان بوجھ کر اسے پسماندہ، غیر محفوظ اور مسائل زدہ رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مجرمانہ غفلت نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت شہر کو محرومیوں کا شکار بنایا جا رہا ہے تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کراچی عوام کی واحد حقیقی آواز ہے اور ہر فورم پر کراچی کے مسائل اٹھاتی رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کراچی کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور وہ صرف شفاف، اہل اور دیانت دار قیادت ہی کے ذریعے ممکن ہیاور پی ٹی آئی ہی وہ جماعت ہے جو کراچی کے مسائل کا عملی اور حقیقت پسندانہ حل رکھتی ہے۔

خبر ایجنسی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فوزیہ صدیقی نے کہا انہوں نے کہا کہ کراچی کے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • بی آئی ایس پی مستحق خواتین کے لیے بڑی سہولت، آئندہ قسط وصول کرنے کا نیا طریقہ سامنے آگیا
  • Google سیلفی ویڈیو فیچر، اکاؤنٹ سائن اِن مزید محفوظ بنانے کا نیا طریقہ
  • پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی میں ملازمتوں کا اعلان، درخواست دینے کا طریقہ کار جانیے
  • کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر ڈی ایس پی صدر رحیم یارخان معطل
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف