data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کوئٹہ(نمائندہ جسارت)کوئٹہ میں سوئی سدرن گیس کمپنی نے سردیوں میں گیس سے متعلق حادثات سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہم کا آغاز کر دیا۔ مہم کا مقصد شہریوں کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا اور گیس کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانا ہے۔کوئٹہ میں سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے سردیوں میں گیس حادثات کی روک تھام کے لیے آگاہی مہم شروع کر دی گئی جس کا افتتاح جی ایم راحیل ملک اور ترجمان سلمان صدیقی نے کیا۔ افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ انسانی زندگی بچانے کے لیے یہ مہم نہایت اہم ہے اور مارچ 2026 تک جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ غفلت سے بچنے کے لیے آگاہی، احتیاطی تدابیر اور معیاری آلات کا استعمال ناگزیر ہے۔ راحیل ملک نے شہریوں کو ہدایت کی کہ گھروں میں گیس پائپ لائن پر مین وال ضرور لگائیں، رات کو سوتے وقت گیس ہیٹر بند رکھیں اور کمپریسر کے استعمال سے مکمل گریز کریں، بصورت دیگر سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سردیوں میں گیس کا استعمال بڑھ جاتا ہے اور کمپنی طلب کے مطابق گیس فراہمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: لیے ا گاہی کے لیے ا میں گیس

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار