عراق، 50 فوجی گاڑیوں کا امریکی فوجی قافلہ بغداد کی طرف روانہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلے کی نقل و حرکت سخت حفاظتی اقدامات کے درمیان کی گئی اور راستے میں عراقی افواج کی تعیناتی کی گئی، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ حالیہ مہینوں کی سب سے بڑی فوجی نقل و حرکت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عراقی ذرائع کا کہنا ہے کہ 50 امریکی فوجی گاڑیاں صوبہ الانبار کو دارالحکومت سے ملانے والی بین الاقوامی سڑک پر بغداد کے مغرب میں واقع الصقور سیکیورٹی گیٹ سے گزری ہیں۔ باخبر ذرائع نے عراقی میڈیا کو بتایا کہ فوجی قافلے میں متعدد قسم کی فوجی گاڑیاں شامل ہیں، جن میں بکتر بند گاڑیاں، بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے والے آلات، اور بڑے ٹرک شامل ہیں جو پشت بانی اور جنگی ساز و سامان پہنچانے کے لئے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلے کی نقل و حرکت سخت حفاظتی اقدامات کے درمیان کی گئی اور راستے میں عراقی افواج کی تعیناتی کی گئی، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ حالیہ مہینوں کی سب سے بڑی فوجی نقل و حرکت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نقل و حرکت کی گئی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔