اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان  اقتصادی جائزہ مذاکرات کا اہم راؤنڈ جاری ہے۔ گزشتہ روز مذاکرات  میں ریکوڈک سمیت کانکنی کے منصوبوں کی  فنانشل ضروریات‘ معاشی اور شرح نمو پر  اثرات اور سرمایہ کاری  اور انتظام  کے حوالے سے مشن کو بریفنگ دی گئی۔ ریکوڈیک منصوبے کی کل لاگت 4.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 7.

72 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ پہلے مرحلے میں دو لاکھ میٹرک ٹن کاپر کی  سالانہ کاپر پیداوار کا تخمینہ ہے۔ منصوبے کا پہلا مرحلہ سال 2029 میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ذرائع  نے بتایا ہے آئی ایم ایف نے  پاکستان سے کہا ہے کہ صوبوں  کے امور  کے شعبوں میں وفاق اپنی سکیمیں  نہ لائے اور وفاق کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سکیموں کو فنڈز دینے سے بھی روکا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو فنڈز منتقلی پر بات ہوئی۔ آئی ایم ایف مشن کو سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر دوبارہ بریفنگ دی  گئی۔ ذرائع کا بتانا ہے آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ صوبے یقینی بنائیں کہ بحالی سکیموں سے سرپلس میں کمی نہ آئے،  تاہم پاکستان سرپلس کے ہدف میں کمی کرانے کا خواہاں ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ صوبے متاثرہ علاقوں میں بحالی کی سکیموں کو اپنے وسائل سے فنڈز دیں۔ وزارت توانائی کے ساتھ مذاکرات میں پاور سیکٹر کی اصلاحات پر بات چیت ہوئی۔ مذاکرات میں لائن لاسز اور بجلی بلوں کی ریکوری بھی زیر بحث آئی۔ بریفنگ بتایا گیا کہ نئی نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 سے درآمدی ڈیوٹیز میں بتدریج کمی ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات  کل بدھ تک جاری رہیں گے۔ معاشی ٹیم پرامید ہے کہ آئی ایم ایف مشن اگلی قسط کے اجراء کی سفارش کرے گا۔ معاشی اہداف پر بات چیت کا سلسلہ آج بھی جاری رہے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب