امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے امریکی ریاست کنیکٹیکٹ کا دورہ کیا اور ریاست کی سب سے بڑی کاروباری تنظیم کنیکٹیکٹ بزنس اینڈ انڈسٹری ایسوسی ایشن ”سی بی آئی اے” کے سی ای او کرس ڈی پنٹیما اور دیگر عہدیداران سے ملاقات کی۔

سی بی آئی اے سے وابستہ مختلف صنعتوں کے ہزاروں ادارے ریاست میں معاشی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مسابقتی کاروباری ماحول کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ملاقات میں نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی اور پاکستانی نژاد کاروباری شخصیت ظہیر شرف بھی شریک تھے۔

ملاقات کے دوران پاک،امریکہ معاشی تعلقات، پاکستان میں امریکی کمپنیوں کے منافع بخش کاروباری امکانات، پاکستان کے تذویراتی محلِ وقوع، اے آئی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیت، اور مختلف صنعتی شعبوں میں دستیاب مواقع پر مفصل تبادلہ خیال کیا گیا۔

سفیر پاکستان نے بتایا کہ امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور معاشی بنیادوں پر تذویراتی تعلقات کا فروغ دونوں ملکوں کی قیادت کی اہم ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اے آئی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاروں کے لیے نادر مواقع موجود ہیں جبکہ 65 فیصد نوجوان آبادی ٹیکنالوجی اور اے آئی میں مہارت کے لیے غیر معمولی استعداد رکھتی ہے۔

رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان کی وافر افرادی قوت، کاروبار دوست حکومتی پالیسیاں اور تذویراتی محلِ وقوع ملک کو سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش منزل بناتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری ملکی معیشت پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کا مظہر ہے، جبکہ 80 سے زائد امریکی کمپنیاں کئی دہائیوں سے پاکستان میں کامیابی کے ساتھ کاروبار کر رہی ہیں۔

سفیر پاکستان نے ریاست کنیکٹیکٹ کی صنعتی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی سرمایہ کاروں کو اے آئی، ڈیجیٹل اکانومی، مینوفیکچرنگ، توانائی، ہوابازی، طبی آلات اور میڈیسن کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کا قیام سرمایہ کاروں کے لیے حکومتی عزم کا واضح اظہار ہے۔

سی بی آئی اے کے سربراہ نے پاکستان میں دستیاب کاروباری مواقع پر گہری دلچسپی کا اظہار کیا، جبکہ سفیر پاکستان نے امریکی کاروباری اداروں کو پاکستانی متعلقہ اداروں سے جوڑنے اور کاروبار کے قیام میں ہر ممکن سہولت کی یقین دہانی کرائی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستان میں اے آئی کے لیے

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود