پاکستان میں امریکی کمپنیوں کے لیے منافع بخش مواقع موجود ہیں،رضوان سعید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے امریکی ریاست کنیکٹیکٹ کا دورہ کیا اور ریاست کی سب سے بڑی کاروباری تنظیم کنیکٹیکٹ بزنس اینڈ انڈسٹری ایسوسی ایشن ”سی بی آئی اے” کے سی ای او کرس ڈی پنٹیما اور دیگر عہدیداران سے ملاقات کی۔
سی بی آئی اے سے وابستہ مختلف صنعتوں کے ہزاروں ادارے ریاست میں معاشی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مسابقتی کاروباری ماحول کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ملاقات میں نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی اور پاکستانی نژاد کاروباری شخصیت ظہیر شرف بھی شریک تھے۔
ملاقات کے دوران پاک،امریکہ معاشی تعلقات، پاکستان میں امریکی کمپنیوں کے منافع بخش کاروباری امکانات، پاکستان کے تذویراتی محلِ وقوع، اے آئی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیت، اور مختلف صنعتی شعبوں میں دستیاب مواقع پر مفصل تبادلہ خیال کیا گیا۔
سفیر پاکستان نے بتایا کہ امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور معاشی بنیادوں پر تذویراتی تعلقات کا فروغ دونوں ملکوں کی قیادت کی اہم ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اے آئی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاروں کے لیے نادر مواقع موجود ہیں جبکہ 65 فیصد نوجوان آبادی ٹیکنالوجی اور اے آئی میں مہارت کے لیے غیر معمولی استعداد رکھتی ہے۔
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان کی وافر افرادی قوت، کاروبار دوست حکومتی پالیسیاں اور تذویراتی محلِ وقوع ملک کو سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش منزل بناتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری ملکی معیشت پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کا مظہر ہے، جبکہ 80 سے زائد امریکی کمپنیاں کئی دہائیوں سے پاکستان میں کامیابی کے ساتھ کاروبار کر رہی ہیں۔
سفیر پاکستان نے ریاست کنیکٹیکٹ کی صنعتی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی سرمایہ کاروں کو اے آئی، ڈیجیٹل اکانومی، مینوفیکچرنگ، توانائی، ہوابازی، طبی آلات اور میڈیسن کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
انہوں نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کا قیام سرمایہ کاروں کے لیے حکومتی عزم کا واضح اظہار ہے۔
سی بی آئی اے کے سربراہ نے پاکستان میں دستیاب کاروباری مواقع پر گہری دلچسپی کا اظہار کیا، جبکہ سفیر پاکستان نے امریکی کاروباری اداروں کو پاکستانی متعلقہ اداروں سے جوڑنے اور کاروبار کے قیام میں ہر ممکن سہولت کی یقین دہانی کرائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان میں اے آئی کے لیے
پڑھیں:
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیےیہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔
(جاری ہے)
انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔
نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثریہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔
دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔
نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعملامریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔
برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔
آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔
جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔
دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملیدریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔
امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔
ادارت: مقبول ملک