data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم میں شامل وزیراعظم کے عہدے سے متعلق استثنیٰ کی شق کو فوری طور پر واپس لینے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی منتخب وزیراعظم کو قانون اور عوام دونوں کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے، اور کسی قسم کا استثنیٰ جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ “ایکس” (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں وزیراعظم نے وضاحت کی کہ آذربائیجان سے واپسی پر انہیں بتایا گیا کہ پارٹی کے چند سینیٹرز نے 27ویں آئینی ترمیم میں وزیراعظم کو استثنیٰ دینے سے متعلق ایک شق سینیٹ میں پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شق اُن کے علم یا منظوری کے بغیر ترمیمی مسودے میں شامل کی گئی تھی اور یہ مجوزہ تبدیلی وفاقی کابینہ سے منظور شدہ ڈرافٹ کا حصہ نہیں تھی۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ جمہوریت میں کوئی بھی عہدہ قانون سے بالاتر نہیں ہوتا اور وزیراعظم کو بھی قانون کی عدالت کے ساتھ ساتھ عوام کی عدالت میں جوابدہ رہنا چاہیے۔ یاد رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ گزشتہ روز سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا، جس میں صدرِ مملکت کے لیے تاحیات استثنیٰ کی تجویز کے ساتھ وزیراعظم کا ذکر شامل کیے جانے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی تھی۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ