27 ویں ترمیم: وزیراعظم نے استثنیٰ لینے سے انکار کرتے ہوئے شق واپس لینے کی ہدایت کردی
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک : وزیراعظم شہباز شریف نے 27 ویں آئینی ترمیم میں وزیراعظم کے عہدے کیلئے استثنیٰ کی شق واپس لینے کی ہدایت کر دی۔
سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ آذربائیجان سے واپسی پر مجھے بتایا گیا کہ پارٹی کے چند سینیٹرز نے وزیراعظم کےاستثنیٰ سے متعلق ترمیمی شق سینیٹ میں پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ترمیمی شق کابینہ سے منظورشدہ مسودے میں شامل نہیں تھی اور میں نے 27 ویں ترمیم میں یہ شق واپس لینے کی ہدایت کر دی۔
بجلی کے بلوں کی ادائیگی؛ صارفین کو بڑا ریلیف مل گیا
On my return from Azerbaijan, I have learnt that some Senators belonging to our party have submitted an amendment regarding immunity for the Prime Minister.
While I acknowledge their intent in good faith, the proposal was not part of the Cabinet-approved draft. I have… — Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) November 9, 2025
شہباز شریف نے مزید کہا کہ منتخب وزیراعظم یقیناً قانون اور عوام کی عدالت میں جوابدہ ہے۔
خیال رہے 27 ویں آئینی ترمیم کو مسودہ گزشتہ روز سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا جس میں صدر پاکستان کے لیے تاحیات استثنیٰ کی درخواست شامل کی گئی تھی جس کے بعد یہ خبر سامنے آئی تھی کہ آئین کے آرٹیکل 248 میں صدر کے ساتھ لفظ وزیر اعظم بھی شامل کر لیا جائے گا۔
ماس ٹرانزٹ سسٹم کا ٹی کیش کارڈ مہنگا ہوگیا
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔