ایس ایس پی برائے امورِ مہاجرین قم کا دفتر قائد ملت جعفریہ کا دورہ، طلاب و زائرین کے مسائل کے حل کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
جناب پایان نے دفتر قائد ملت جعفریہ کی فعالیت اور خدمات کو سراہا۔ انہوں نے دفتر کے اعضاء سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ طلاب اور زائرین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ قم میں رہائش پذیر غیر ملکیوں اور مہاجرین کے امور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) جناب مجتبیٰ پایان نے دفتر قائد ملت جعفریہ کا دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد غیر ملکی طلاب اور زائرین کو درپیش مشکلات پر تبادلہ خیال کرنا اور ان کے لئے ممکنہ حل تلاش کرنا تھا۔ ملاقات کے دوران ایس ایس پی جناب پایان نے طلاب اور زائرین کے مختلف امور پر دفتر کے اراکین سے سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے مشکلات کو بغور سنا اور ان کے فوری حل کے حوالے سے مکمل یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر قم میں نمائندہ قائد اور دفتر کے مدیر علامہ شیخ بشارت حسین زاہدی نے معزز مہمان کو ادارے کی مجموعی فعالیت اور کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور مسائل کے حل کے لیے چند اہم تجاویز بھی پیش کیں۔ مدیر دفتر نے ایس ایس پی صاحب کی دفتر آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
ایس ایس پی جناب پایان نے دفتر قائد ملت جعفریہ کی فعالیت اور خدمات کو سراہا۔ انہوں نے دفتر کے اعضاء سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ طلاب اور زائرین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دفتر قائد ملت جعفریہ طلاب اور زائرین ایس ایس پی زائرین کے پایان نے نے دفتر دفتر کے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔