وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق  فضل  چودھری  نے کہا ہے کہ  27 ویں آئینی ترمیم  کا مسودہ کل  ان شاء اللہ  سینیٹ میں پیش ہو جائے گا، ترمیم میں 18 ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اور رہنما  مسلم لیگ ن ڈاکٹر  طارق  فضل  چودھری  نے پروگرام  سینٹر اسٹیج میں گفتگو  کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم  کا مسودہ کل  ان شاء اللہ  سینیٹ میں پیش ہو جائے گا جبکہ مشترکہ کمیٹی میں بھی مسودے پر بحث ہوگی اور امید ہے کہ  ایک ایک شق پر   تفصیل  سے بات ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد مسودہ قومی اسمبلی میں پیش ہو گا۔اور ہمیں امید ہے  27 ویں ترمیم پاس ہو جائے گی ۔

ان کا کہنا تھا کہ ستائسویں آئینی ترمیم میں 18 ویں ترمیم کو رول  بیک کرنے کی کوئی بات نہیں ہے، ترمیم پر پیپلز پارٹی کے تحفظات ہیں،  ہماری کوشش ہے کہ مشاورت سے فیصلے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی اور دیگر معاملات پر  باہمی مشاورت سے معاملات طے  پا جائیں گے، دو تین نکات   کے علاوہ کسی مجوزہ  شق  پر کوئی اختلافات نہیں ہیں۔  

وزیر اعظم شہباز شریف  کی اتحادی جماعتوں سے  ملاقات سے متعلق  بات کرتے ہوئے  ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم ، نیشنل پارٹی دیگر  جماعتوں نے مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور تعاون کا یقین دلایا ہے جبکہ  پیپلز پارٹی سے  بھی جو  مشاورت ہوئی  اور وہ  مثبت  ہے جس میں این ایف سی،  آئینی عدالت نصاب کے حوالے سے چند تجاویز سامنے آئی ہیں۔

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے  میں  اتحادیوں سے بات چیت کی ہے۔  وفاقی وزیرنے بتایا  کہ  وزیر اعظم نے آج اتحادی جماعتوں کے قائدین کو مدعو کیا تھا، ایم  کیو ایم نے پہلے  وزیر اعظم سے  ملاقات کی، اعجاز الحق بھی آج تشریف لائے۔ معاملہ  جب کمیٹی میں جائے گا تو  تمام   جماعتوں سے مشاورت ہو جائے گی، زیادہ تر جماعتوں نے  ساتھ دینے  کی یقین دہانی کرائی ہے۔ 

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے   انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ہم آن بورڈ لیں گے، اس سے پہلے 26 ویں ترمیم  پر بھی مولانا  صاحب نے ہمارا ساتھ دیا تھا، امید  ہے کہ اس ترمیم میں بھی مولانا صاحب ہمارا ساتھ دیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر ویں ترمیم ہو جائے نے کہا

پڑھیں:

’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 

پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز،  915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ 

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن