وینزویلا میں امریکی سفارت خانے کو دھماکے سے اُڑانے کی کوشش
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں موجود امریکی سفارت خانے پر فالس فلیگ بم دھماکے کی سازش ناکام بنا دی۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے دعویٰ کیا کہ ملکی سیکیورٹی فورسز نے امریکی سفارتخانے میں بم دھماکے کی ایک مبینہ سازش کو ناکام بنا دیا۔
صدر نکولس مادورو کے بقول منصوبہ یہ تھا کہ امریکی سفارت خانوں پر حملہ کرکے الزام حکومت پر لگایا جاتا اور تاکہ امریکا کے ساتھ تعلقات کو مزید خراب کیا جا سکے۔
وینزویلا کے صدر نے مزید کہا کہ اس سازش کے بارے میں حکومت کو ایک ملکی اور ایک بین الاقوامی ذریعہ سے اطلاع ملی تھی کہ مقامی دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر امریکی سفارتخانے میں بم نصب کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
صدر نکولس مادورو نے مزید بتایا کہ اس اطلاع کے بعد فورسز کو فوری طور پر سفارتخانے کی حفاظت کے لیے تعینات کیا گیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سازش کے پیچھے کون لوگ تھے، ان کے نام جلد سامنے لائے جائیں گے۔
یاد رہے کہ 2019 میں امریکا اور وینزویلا کے درمیان سفارتی تعلقات ٹوٹنے کے بعد سے امریکی سفارتخانہ بند ہے اور وہاں صرف حفاظتی عملہ موجود ہے۔
یہ خبر ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور وینزویلا کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اپنے خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل کو ہدایت دی ہے کہ وینزویلا کے ساتھ تمام مذاکرات روک کر دیئے جائیں۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے عسکری قیادت سے ملاقات میں یہ واضح کیا کہ وہ اب تک صرف وینزویلا کے بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاہم مستقبل میں وینزویلا کے اندر اہداف پر بھی حملوں کا امکان موجود ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی حکومت پر منشیات اسمگلنگ کا الزام لگاتے ہوئے صدر نکولس مادورو کے سر کی قیمت بڑھا کر 50 ملین ڈالر کر دی ہے۔
علاوہ ازیں امریکی بحری جہاز اور ایک آبدوز وینزویلا کے قریب تعینات کی گئی ہیں جبکہ ایف-35 لڑاکا طیارے بھی اس فوجی دباؤ کا حصہ ہیں۔
گزشتہ ہفتے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے اعلان کیا کہ کیریبین میں ایک چھوٹی کشتی پر حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کو امریکا نے "نارکو دہشت گرد" قرار دیا تھا۔
دوسری جانب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے ان امریکی الزامات کو اپنی حکومت گرانے کی سازش قرار دیتے ہیں۔
نکولس مادورو کا مؤقف ہے کہ امریکا کا اصل مقصد وینزویلا میں حکومت تبدیل کرانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صدر نکولس مادورو نے وینزویلا کے صدر
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔