امریکی حمایت کے بغیر اسرائیل کے لیے غزہ جنگ ممکن نہ تھی نہ ہے، براون یونیورسٹی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
مشرق وسطیٰ میں امریکی سرگرمیوں کے ایک اور مطالعے سے پتا چلا ہے کہ امریکہ نے اسی عرصے کے دوران یمن پر حملوں سمیت خطے میں کارروائیوں پر 9.65 بلین سے 12 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں ایران میں جوہری تنصیبات پر امریکی حملے بھی شامل ہیں، جن کی لاگت صرف 2 بلین سے 2.25 بلین ڈالر کے درمیان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ جنگ کے آغاز کی دوسری سالگرہ کے موقع پر کیے گئے ایک مطالعے کے نتائج کے مطابق امریکی حمایت کے بغیر، جس کی مالیت 18.
رپورٹ کے مطابق امریکی حمایت کے بغیر، جس کی مالیت 18.5 بلین یورو کے برابر ہے، اسرائیلی حکومت اس پیمانے پر غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے خلاف اپنی مہم جاری نہیں رکھ سکتی تھی۔ رپورٹ کے مطابق جنگ کے پہلے سال میں امریکہ نے صدر جو بائیڈن کے دور میں اسرائیلی حکومت کو 17.9 بلین ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی تھی۔ جنگ کے دوسرے سال جب ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس واپس آئے تو یہ تعداد 3.8 بلین ڈالر تھی۔ تحقیق کے مطابق اس امداد میں شامل کچھ فوجی سازوسامان آنے والے برسوں میں حکومت کو فراہم کیے جائیں گے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ابتدائی طور پر اعداد و شمار پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی سرگرمیوں کے ایک اور مطالعے سے پتا چلا ہے کہ امریکہ نے اسی عرصے کے دوران یمن پر حملوں سمیت خطے میں کارروائیوں پر 9.65 بلین سے 12 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں ایران میں جوہری تنصیبات پر امریکی حملے بھی شامل ہیں، جن کی لاگت صرف 2 بلین سے 2.25 بلین ڈالر کے درمیان ہے۔ یہ مطالعات زیادہ تر اوپن سورس مواد پر مبنی ہیں اور خطے میں اسرائیلی حکومت کے اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہیں۔ کوئنسی انسٹی ٹیوٹ برائے ذمہ دار حکومت، جس نے اسرائیل کو فوجی امداد سے متعلق رپورٹ میں حصہ ڈالا، پر حکومت کے قریبی گروپوں کی طرف سے اسرائیل مخالف ہونے کا الزام لگایا گیا ہے، جس کی انسٹی ٹیوٹ نے تردید کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی حکومت امریکہ نے بلین ڈالر کے مطابق بلین سے جنگ کے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔