سونا عوام کی پہنچ سے دور، فی تولہ قیمت بلند ترین سطح پر
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان میں بھی دیکھے جا رہے ہیں، جہاں فی تولہ سونا 1500 روپے اضافے کے ساتھ 4 لاکھ 16 ہزار 778 روپے کا ہوگیا۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق منگل کو 10 گرام سونا 1286 روپے کے اضافے کے بعد 3 لاکھ 57 ہزار 319 روپے میں فروخت ہوا۔ گزشتہ روز پیر کو بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا، جب فی تولہ سونا 5400 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 15 ہزار 278 روپے پر پہنچ گیا تھا۔ عالمی منڈی میں بھی سونے کے نرخ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں سونا 15 ڈالر اضافے کے ساتھ 3955 ڈالر فی اونس پر جا پہنچا، جب کہ پریمیئم 20 ڈالر تک رہا۔اس دوران چاندی کی قیمت میں کمی دیکھی گئی، جو 20 روپے کمی کے بعد 4929 روپے فی تولہ پر آگئی۔ بین الاقوامی سطح پر اس وقت سپاٹ گولڈ 3960 ڈالر فی اونس کے قریب ٹریڈ ہو رہا ہے، جب کہ دن کے دوران یہ ایک نئی بلندی 3977 ڈالر 19 سینٹ تک پہنچ گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق رواں سال کے دوران سونا اب تک 51 فیصد مہنگا ہوچکا ہے، جس کی وجوہات میں مرکزی بینکوں کی بڑی خریداری، گولڈ ایکسچینج فنڈز کی مانگ میں اضافہ، کمزور ڈالر اور عالمی تجارتی و جغرافیائی کشیدگی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔