5 ہزار کی جگہ 25 ہزار، بجلی صارفین پر کئی گنا مزیدبوجھ ڈال دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: بجلی صارفین پر کئی گنا مزیدبوجھ ڈال دیا گیا، اب نئے کنکشن کے لئے 5 ہزار کی جگہ صارف اب 25 ہزارروپے ادا کرنے ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے صارفین پر نئے میٹرز کی خریداری کے معاملے میں بھاری بوجھ ڈال دیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ لیسکو نے پرائیویٹ کمپنیوں کو اے ایم آئی (AMI) میٹر تیار اور فروخت کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس سے ان کمپنیوں کو کروڑوں روپے منافع ہونے کا امکان ہے۔
صنم جاوید کو گرفتار کرلیا گیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ جو میٹر پہلے 5 ہزار روپے میں دستیاب تھا، اب صارفین کو وہی میٹر 25 ہزار روپے میں خریدنا پڑے گا۔
لیسکو نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس میں کہا ہے کہ لیسکو اب خود میٹر فراہم نہیں کرے گا بلکہ صرف این او سی جاری کرے گا، جب کہ صارفین کو نئے کنکشن یا خراب میٹر کی تبدیلی کے لیے ان پرائیویٹ کمپنیوں سے ہی میٹر خریدنا ہوگا۔
لیسکو حکام کے مطابق ادارے کا سالانہ بجٹ مکمل طور پر خرچ ہو چکا ہے، اس لیے جون 2026 تک پرائیویٹ کمپنیاں ہی صارفین کو میٹر فراہم کریں گی۔
سولر پاور کے بجلی نرخ میں 2 روپے فی یونٹ کمی
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔