لیسکو کا صارفین کے لیے 1 لاکھ 50 ہزار سنگل وتھری فیز میٹرز خریدنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
شاہد سپرا:لیسکو نے صارفین کے لیے1 لاکھ 50 ہزار سنگل اور تھری فیز میٹرز خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سنگل فیز، اے ایم آئی بائی ڈائریکشنل اور اے ایم آئی سمارٹ میٹرز کی خریداری کی جائیگی،لیسکو کو 3 کیٹیگریز کی صورت میں خریداری کیلئے اربوں کے اخراجات برداشت کرنا ہونگے،لیسکو نے شعبہ میٹریل مینجمنٹ نے سنگل و تھری فیز میٹرز کی خریداری کا عمل شروع کر دیا،لیسکو ابتدائی طور پر 65 ہزار دو سو ستر سنگل فیز سمارٹ میٹرز خریدے گی۔
صنم جاوید کو گرفتار کرلیا گیا
50ہزار اے ایم آئی بائی ڈائریکشنل ،24 ہزار 675اے ایم آئی سمارٹ میٹرز خریدے جائینگے،اے ایم آئی بائی ڈائریکشنل میٹرز صارفین کو نیٹ میٹرنگ پراجیکٹ کیلئے دیئے جائیں گے،اے ایم آئی سمارٹ نیو کنکشن اور جلنے والے میٹرز کی تبدیلی کیلئے استعمال ہوں گے،سنگل فیز سمارٹ میٹرز بھی نیو کنکشن اور ایم سی او کیلئے استعمال ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔