سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ، فی تولہ سونا کتنے کا ہوگیا؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
ملک بھر میں سونے کی قیمت میں آج بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، فی تولہ سونے کی قیمت 1500 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 16 ہزار 778 روپے پر پہنچ گئی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق آل سندھ صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے بتایا کہ کاروباری ہفتے کے پہلے روز کی طرح دوسرے روز بھی سونے کی قیمت میں اضافہ ہوا جس سے فی تولہ سونے کی قیمت تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
آل سندھ صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق منگل کو ملک میں 24 قیراط سونے کی قیمت میں 1500 روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت تاریخ کی نئی بلند ترین سطح 4 لاکھ 16 ہزار 778 روپے تک پہنچ گئی۔
خیال رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں 5 ہزار 400 روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جس سے قیمت 4 لاکھ 15 ہزار 278 روپے ہو گئی تھی۔
آل سندھ صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے بتایا کہ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 1286 روپے کا اضافہ ہوا جس سے نئی قیمت 3 لاکھ 57 ہزار 319 روپے ہوگئی ہے جو گزشتہ روز 4 ہزار 629 روپے کے اضافے سے 3 لاکھ 56 ہزار 33 روپے ہوگئی تھی۔
دوسری جانب، عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت بھی تاریخ کی بلند ترین سطح 4 ہزار ڈالر تک پہنچنے والی ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونا 15 ڈالر کے اضافے کے بعد فی اونس سونے کی قیمت 3 ہزار 955 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
اسی طرح، 10 گرام چاندی کی قیمت 17 روپے کی کمی سے 4 ہزار 225 روپے ہوگئی ہے جب کہ عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 48.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فی تولہ سونے کی قیمت سونے کی قیمت میں پہنچ گئی گئی ہے
پڑھیں:
پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔