سپریم کورٹ کا فیصلہ، 26ویں ترمیم کیس کی سماعت براہِ راست دکھائی جائے گی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
دورانِ سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ہمارا المیہ ہے ہم ہر چیز کا غلط استعمال کرتے ہیں، ہم نے لائیو اسٹریمنگ سے عوام کو تعلیم دینا چاہی، مگر خود ایکسپوز ہوگئے۔
جسٹس عائشہ ملک نے حکومت کے مؤقف سے متعلق استفسار کیا جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ لائیو اسٹریمنگ کا معاملہ انتظامی نوعیت کا ہے۔ اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ یعنی بینچ جو فیصلہ کرے، حکومت اس پر متفق ہے۔
کے پی حکومت کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ کسی جج پر ذاتی اعتراض نہیں، تاہم کیس کی سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد سماعت براہِ راست نشر کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔