بیوٹمز یونیورسٹی میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ نوجوان کسی بھی جھوٹے پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں، بلکہ تحقیق کو فروغ دیں۔ حکومت سے نوجوانوں کی ناراضگی ہوسکتی ہے، تاہم ریاست نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان یا نام نہاد شورش نہیں، بلکہ کرپشن ہے۔ جس نے اس صوبے کے اداروں، معاشرتی ڈھانچے اور نوجوانوں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ امن و امان کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے ہماری سکیورٹی فورسز بھرپور پیشہ ورانہ استعداد رکھتی ہیں۔ مرکزی مسئلہ کرپشن کا ہے۔ کرپشن کے خاتمے کے بغیر ترقی، انصاف اور بہتر طرز حکمرانی ممکن نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم انسداد کرپشن کے موقع پر بیوٹمز یونیورسٹی میں انٹر یونیورسٹیز اسپورٹس فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ، ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان نعمان اسلم، وائس چانسلر بیوٹمز پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں پہلی بار یوتھ پالیسی متعارف کرائی گئی ہے۔ نوجوان ہمارا مسقتبل ہیں۔

انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اس پاکستان کو لیکر آگے لیکر جانا ہے۔ آپ نے وطن عزیز کے خلاف ہونے والی تمام سازشوں کو ناکام بنانا ہے۔ ریاست سے دور نہیں ہونا، مسئلے مسائل اور حکومت سے ناراضگی ہوسکتی ہے اور یہ مسائل پورے پاکستان میں درپیش ہیں، لیکن ریاست نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ ریاست سے خلیج کسی صورت ٹھیک نہیں ہے۔ نوجوان نے پاکستان کے خلاف کسی پروپیگنڈہ کا حصہ نہیں بننا۔ اس ملک کے لئے کام کرنا ہے۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم نے پہلے روز اسمبلی فلور پر وعدہ کیا تھا کہ کوئی نوکری نہیں بکے گی، ہم نے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں میں بارہ سے سولہ ہزار اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی کی اور میرٹ کے اس تسلسل کو ہر شعبہ میں متعارف کروا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وعدہ کرتے ہیں کہ بلوچستان میں کھیلوں کے میدان آباد کریں گے اور نوجوانوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں کے بھرپور مواقع فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے کرپشن کے تدارک کے لیے نیب کے ساتھ ساتھ چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور محکمہ جاتی جوابدہی کے عمل کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، تاکہ ہر سطح پر شفافیت اور دیانت داری کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے احتساب کے عمل کو سیاسی یا ذاتی مفاد سے بالاتر رکھا ہے۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ہمارے دور میں کبھی بھی وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے اینٹی کرپشن کو کسی کو فیور دینے کے لیے فون نہیں گیا۔ احتساب کے اداروں کو مکمل خودمختاری حاصل ہے اور کوئی فرد قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کے چیئرمین نے ایک انکوائری میں اپنے ہی سگے بھائی کے خلاف رپورٹ مرتب کی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ احتساب کا عمل کسی رشتہ داری یا دباؤ کا مرہون منت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا بلوچستان دیانت داری، شفافیت اور قانون کی بالادستی کی بنیاد پر کھڑا ہو رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی قوم کا حقیقی سرمایہ اور طاقت ہیں۔ اگر نوجوان دیانت داری، سچائی اور خدمت کو اپنا شعار بنالیں تو معاشرے سے کرپشن، ناانصافی اور بدعنوانی خود بخود ختم ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی اصل طاقت بندوق نہیں، بلکہ تعلیم یافتہ، باشعور اور ایماندار نوجوان ہیں۔ نوجوان کسی بھی جھوٹے پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں، بلکہ تحقیق کو فروغ دیں۔ حکومت سے نوجوانوں کی ناراضگی ہوسکتی ہے، تاہم ریاست نے کوئی گناہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل عوام کی امانت ہیں۔ جنہیں صرف عوامی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ ہر سرکاری افسر، استاد اور طالب علم پر لازم ہے کہ وہ اپنے فرائض میں دیانت داری، سچائی اور شفافیت کو بنیادی اصول بنائے۔ کرپشن صرف مالی بدعنوانی نہیں، بلکہ ذمہ داریوں سے غفلت، اوقاتِ کار میں کوتاہی اور عوامی اعتماد کی خلاف ورزی بھی کرپشن کے زمرے میں آتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم قانون کا احترام کریں۔ اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دیں، قومی وسائل کی حفاظت کریں اور اپنے قول و فعل میں شفافیت لائیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست سے محبت کا ثبوت صرف نعرے نہیں، بلکہ کردار اور عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے ادارہ جاتی شفافیت کے لیے مؤثر اصلاحات شروع کی ہیں اور بدعنوان عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ دیانت دار افسران کی حوصلہ افزائی اور عوامی اعتماد کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام باصلاحیت، محب وطن اور جفاکش ہیں۔ ضرورت صرف اس عزم کو منظم سمت دینے کی ہے۔ آج کے نوجوان اگر کرپشن کے خلاف متحد ہو جائیں تو آنے والی نسلوں کو ایک صاف، شفاف اور مضبوط بلوچستان ملے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سرفراز بگٹی نے کہا نے کہا کہ بلوچستان انہوں نے کہا کہ دیانت داری کرتے ہوئے کرپشن کے ریاست سے نہیں ہے کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد

بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا