بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا کوئی معاہدہ نہیں دیکھا، رہنما ن لیگ سلیم کھوسہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر سلیم کھوسہ نے سینٹر دوستین ڈومکی کے وزیراعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی سے متعلق بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی نے اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں تبدیلی کی ہوا، سرفراز بگٹی کتنے مضبوط ہیں؟
بلوچستان اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر سلیم کھوسہ کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی تبدیلی دوستین ڈومکی کی ذاتی خواہش ہوسکتی ہے تاہم مسلم لیگ (ن) کے تمام اراکین اسمبلی کو وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی پر مکمل اعتماد ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈھائی سالہ معاہدے سے متعلق انہوں نے تحریری طور پر کچھ نہیں دیکھا۔
مزید پڑھیے: بلوچستان میں اقتدار کا معاملہ، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان کیا معاہدہ ہوا ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ ممکن ہے کہ معاہدے کے حوالے سے مرکزی قیادت کی سطح پر بات چیت ہوئی ہو تاہم انہوں نے اس حوالے سے صرف سنا ہے۔
سلیم کھوسہ نے کہا کہ سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت امن و امان سمیت دیگر چیلنجز سے بھرپور انداز میں نمٹ رہی ہے ایسے حالات میں تبدیلی کی باتیں کرنا مناسب نہیں۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کی سیاست میں ہلچل، کیا وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی تبدیلی قریب ہے؟
انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف بیان دینے پر مرکزی قیادت ضرور نوٹس لے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان بلوچستان وزیراعلیٰ تبدیلی سلیم کھوسہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان بلوچستان وزیراعلی تبدیلی سلیم کھوسہ سرفراز بگٹی سلیم کھوسہ کی تبدیلی انہوں نے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔