اپوزیشن اتحاد کا 27ویں ترمیم کیخلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج، جمعہ کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اسلام آباد میں منگل کے روز اپوزیشن اتحاد ’تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان‘ نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف اپنی ملک گیر تحریک کے سلسلے میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بھرپور احتجاج کیا اور 21 نومبر، جمعہ کو پورے ملک میں یومِ سیاہ منانے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں:اپوزیشن اتحاد کا 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف شدید ردعمل، یوم سیاہ اور مارچ کا اعلان کردیا
احتجاج میں تحریک کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ اور سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس، پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سمیت مختلف جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے۔
مظاہرین نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر آمریت مردہ باد، جمہوریت زندہ باد، 27ویں ترمیم مسترد اور عدلیہ کی غلامی عوام کی غلامی ہے، جیسے نعرے درج تھے۔
اپوزیشن رہنماؤں نے پارلیمنٹ ہاؤس سے سپریم کورٹ تک احتجاجی مارچ بھی کیا۔ سپریم کورٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے اعلان کیا کہ جمعہ کے روز پورے ملک میں یومِ سیاہ منایا جائے گا اور مساجد میں جمعہ کی نماز کے خطابات میں 27ویں ترمیم کی مذمت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم آئین کو غیر مؤثر کر رہی ہے اور ان کی تحریک ہر اس قانون سازی کے خلاف کھڑی ہے جو آئین اور اسلامی اصولوں سے متصادم ہو۔
یہ بھی پڑھیں:27ویں ترمیم آئین کی روح کے منافی ہے: اپوزیشن نے احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا
علامہ راجہ ناصر عباس نے خطاب میں کہا کہ پارلیمنٹ سے سپریم کورٹ تک واک کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ انصاف کے دروازے عوام کے لیے بند ہوچکے ہیں۔
ان کے مطابق آئین کی روح کے خلاف قانون سازی ملک کی سالمیت پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکمران اسرائیل کو تسلیم بھی کر لیں تو کوئی سوال نہیں کرتا، مگر عوام ضرور پوچھے گی۔ انہوں نے بھی جمعہ کو ملک گیر یومِ سیاہ اور سیاہ پٹیاں باندھنے کا اعلان دہرایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان سلمان اکرم راجہ علامہ راجہ ناصر عباس محمود اچکزئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان سلمان اکرم راجہ علامہ راجہ ناصر عباس محمود اچکزئی اپوزیشن اتحاد 27ویں ترمیم کا اعلان کے خلاف
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔