چھبیسویں آئینی ترمیم کا کیس سپریم کورٹ کے یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے لائیو اسٹریمنگ کی درخواستیں منظور کرلیں، چھبیسویں آئینی ترمیم کا کیس سپریم کورٹ کے یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر ہوگا۔
سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بینچ نے چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے موقع پر مصطفیٰ نواز کھوکھر کے وکیل شاہد جمیل نے کہا کہ فل کورٹ تشکیل سے متعلق ہماری درخواست پر اعتراضات لگے، چیمبر اپیل دائر کی ہے اس پر پہلے فیصلہ کیا جائے۔
اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین نے کہا کہ پہلے ہم آئینی بینچ پر اعتراض اور فل کورٹ کا معاملہ سنیں گے۔
سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارا المیہ ہے کہ ہم ہر چیز کا غلط استعمال کرتے ہیں، ہم نے لائیو اسٹریمنگ سے لوگوں کو تعلیم دینا چاہی، لیکن ہم لائیو اسٹریمنگ سے ایکسپوز ہوگئے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میثاق جمہوریت پر شہید بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے دستخط کیے۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان روسٹرم پر آئے تو جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ لائیو اسٹریمنگ سے متعلق اٹارنی جنرل کا کیا مؤقف ہے؟ حکومت کا لائیو اسٹریمنگ سے متعلق کیا موقف ہے؟
اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ لائیو اسٹریمنگ ایڈمنسٹریٹو سائیڈ پر ہوتا یے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ یعنی بینچ جو فیصلہ کرلے اس پر راضی ہیں۔
بعدازاں عدالت نے چھبیسویں آئینی ترمیم سے متعلق درخواستوں پر سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چھبیسویں آئینی ترمیم لائیو اسٹریمنگ سے اٹارنی جنرل سپریم کورٹ نے کہا کہ
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔