اسرائیل غزہ کی عوام پر دو سال سے بم برسا رہا ہے، حاجی حنیف طیب
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
ایک بیان میں سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ کیا مسلم حکمران غفلت کی نیند سوئے رہیں گے، آخر امت مسلمہ کب جاگے گی؟اسرائیل غزہ میں دو سال سے نسل کشی کا مرتکب اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں نے بھی کچھ نہیں کیا۔ اسلام ٹائمز۔ نظام مصطفیٰ پارٹی کے چیئرمین سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر حاجی محمدحنیف طیب نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے دو سال گزرنے پر مسلم حکمرانوں کاکردار اور بے حسی کو شرم ناک اور قابل مذمت قرار دیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے دعووں کے باوجود اسرائیلی جارحیت رک نہ سکتی 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کے حملوں کے نتیجے میں مزید 26 فلسطینی شہید کردیئے گئے، غزہ میں اسرائیلی انسانیت سوز مظالم کے دو سال گزر گئے ہیں، اسرائیلی بمبار طیاروں نے غزہ کی آبادیوں پر بم برسا کر قیامت صغریٰ برپا کردی ہے، اب تک شہداء کی تعداد 72 ہزار سے زائد ہوگئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد دو لاکھ کے قریب ہے، اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں تباہی کی شرح 90 فی صد تک پہنچ چکی ہے، مساجد، تعلیمی و صحت کے مراکز، رہائشی عمارتیں سب ملبہ کا ڈھیر بن گئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بچے، مرد، خواتین، بزرگ سب بھوک سے تڑپ رہے ہیں، کیا مسلم حکمران غفلت کی نیند سوئے رہیں گے، آخر امت مسلمہ کب جاگے گی؟اسرائیل غزہ میں دو سال سے نسل کشی کا مرتکب اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں نے بھی کچھ نہیں کیا، ان کا کردار بھی افسوس اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کو بلارکاوٹ جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔ حاجی محمد حنیف طیب نے کہا کہ اس ساری بربادی میں امریکہ کا بھی کردار ہے، امریکہ اسرائیل کو اسلحہ فراہم کررہا ہے، مالی امداد فراہم کررہا ہے، اس نے اب تک جنگ بندی کو روکنے کے لیے اسرائیل کو واضح حکم جاری نہیں کیا۔ حاجی محمد حنیف طیب کا مزید کہنا تھا گلوبل صمود فلوٹیلا کے لوگ سماجی کارکن تھے اور امدادی سامان غزہ کی عوام کو پہنچانے نکلے تھے، اُن کو گرفتار کرکے ہتھکڑیاں لگاکر بدنام زمانہ جیلوں میں ڈال کر ظلم ڈھانا قابل مذمت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔