کترینہ سے ملاقات کیسے ہوئی تھی؟ وکی کوشل کا حیران کن انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
بولی وڈ اداکار وکی کوشل نے اپنی اہلیہ کترینہ کیف کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات کا احوال بتا دیا۔
اداکار وکی کوشل نے ٹوئنکل کھنا اور کاجول کے پروگرام ’ٹو مچ وتھ ٹوئنکل اینڈ کاجول‘ میں شرکت کی۔
پروگرام میں وکی کوشل نے بتایا کہ ان کو اور کترینہ کو قریب لانے میں کامیڈین سنیل گروور حیران کن کردار ادا کیا۔
37 سالہ اداکار نے بتایا کہ وہ کترینہ سے پہلی بار ایوارڈ شو میں ملے جہاں وہ میزبانی کر رہے تھے اور کترینہ پرفارم کر رہی تھیں۔ انہوں نے کترینہ کے ساتھ ایک گانے پر پرفارم کیا اور بعد میں سنیل گروور نے بیک اسٹیج پر متعارف کرایا۔
وکی کوشل نے بتایا کہ ملنے کے پانچ منٹ بعد ہی کترینہ ان کو میزبانی کے حوالے سے تجاویز دینے لگیں، حالانکہ وہ میزبانی تمام کر چکے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی اگلی ملاقات بھی ایک ایوارڈ تقریب میں ہوئی جہاں انہوں نے مذاقاً کترینہ کو اسٹیج پر پروپوز کیا۔
وکی کوشل کے اس مذاق کے بعد میڈیا پر ان دنوں کے درمیان تعلقات کی افواہیں پھیلیں جنہون نے بالآخر حقیقت کا روپ دھارا اور 9 دسمبر 2021 کو رشتہ ازدواج سے منسلک ہوگئے۔
دونوں کے یہاں حال ہی میں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل وکی کوشل نے نے بتایا کہ
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔