امریکا نے غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کو کم از کم 21.7 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
امریکا نے صدر جو بائیڈن اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ادوار میں، غزہ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیل کو کم از کم 21.7 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی ۔
یہ انکشاف معروف خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے کیا، جس نے اس تحقیق کو براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز کے تحت جاری کیے گئے “کاسٹ آف وار” پروجیکٹ سے حاصل کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق صرف گزشتہ دو سالوں میں امریکا نے مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی امداد اور فوجی سرگرمیوں پر تقریباً 10 ارب ڈالر اضافی خرچ کیے۔
اگرچہ یہ تحقیقات زیادہ تر اوپن سورس معلومات پر مبنی ہیں، لیکن یہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو دی جانے والی فوجی معاونت اور مشرق وسطیٰ میں امریکی مداخلت کے اخراجات کا اب تک کا سب سے جامع تجزیہ فراہم کرتی ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اکتوبر 2023 کے بعد کی امداد پر فوری ردعمل نہیں دیا، جبکہ وائٹ ہاؤس نے اس بارے میں سوالات پینٹاگون کی طرف موڑ دیے، جو امداد کے صرف ایک حصے کی نگرانی کرتا ہے۔
رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی جب جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں
یہ رپورٹ ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے زور دے رہے ہیں، اور مصر میں اسرائیلی و حماس نمائندوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، حماس نے امریکا کے مجوزہ جنگ بندی منصوبے کے کچھ نکات تسلیم کر لیے ہیں، جنہیں اسرائیل نے بھی اصولی طور پر قبول کیا ہے۔
تحقیق میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ اگر امریکا کی طرف سے یہ فوجی امداد فراہم نہ کی جاتی، تو اسرائیل کے لیے غزہ میں حماس کے خلاف جاری بھرپور فوجی مہم کو برقرار رکھنا ممکن نہ ہوتا۔
مستقبل میں بھی اربوں ڈالر کی مزید امداد متوقع
رپورٹ کے مطابق، مختلف دوطرفہ معاہدوں کے تحت آئندہ برسوں میں بھی اسرائیل کو اربوں ڈالر کی اضافی امداد دیے جانے کا امکان ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق:
جنگ کے پہلے سال میں، جب بائیڈن صدر تھے، امریکا نے اسرائیل کو 17.
دوسرے سال میں مزید 3.8 ارب ڈالر فراہم کیے گئے۔
اس امداد کا کچھ حصہ فوری طور پر دیا گیا، جبکہ باقی فنڈز آئندہ برسوں میں منتقل کیے جائیں گے۔ اس مرکزی رپورٹ کو واشنگٹن میں قائم “کوئنسی انسٹیٹیوٹ فار ریسپانسبل
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسرائیل کو امریکا نے ارب ڈالر کے مطابق ڈالر کی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔