علی ظفر اور علی حیدر کا شہرہ آفاق گانا 3.0 ورژن میں ریلیز کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
پاکستانی گلوکار علی ظفر اور علی حیدر نے شہرہ آفاق گانا ’ظالم نظروں سے‘ نئے اور جدید انداز سے ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
معروف گلوکار و اداکار اور میوزک کمپوزر علی ظفر اور سنگر علی حیدر کا یہ گانا 3.0 ورژن میں کل ریلیز کیا جائے گا جس کا ایک مختصر ٹیژر جاری کردیا گیا ہے۔
اس ٹیژر کے بعد مداحوں اور شائقینِ موسیقی اب اس شہرہ آفاق گانے کو نئے انداز سے دیکھنے کیلیے بے تاب ہیں۔
یاد رہے کہ علی حیدر نے اس گانے کو بھی ری میک کیا جس کے بعد وہ شہرت کی سیڑھیاں چڑھتے چلے گئے تھے، ویسے تو انہوں نے چند سال قبل موسیقی سے دوری اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اب وہ نئے انداز کے ساتھ واپس آرہے ہیں۔
علی ظفر کا شمار اُن کمپوزرز میں ہوتا ہے جنہوں نے پرانے گانوں کی نئی دھن اور اسے شاندار انداز سے تیار کر کے پیش کیا جس کو شائقین موسیقی نے بہت پسند کیا ہے۔
علی ظفر اس سے قبل ’الے، لڑشا پیخاور، بالو بتیاں، لیلیٰ او لیلیٰ سمیت دیگر گانوں کی دھنوں کو دوبارہ سے ترتیب دے کر پیش کرچکے ہیں جن کو مداحوں نے بہت پسند کیا ہے۔
Zaalim Nazro sey teaser is finally out! @ali_zafar and @alihaiderofficialpage are bringing an extraordinary reconstruction tomorrow.
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل علی حیدر علی ظفر
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔