الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے جمعرات کے روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے این اے-18 ہری پور ضمنی انتخاب سے متعلق غیر ذمہ دارانہ بیان کا نوٹس لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے شہر ایبٹ آباد کی تحصیل حویلیاں میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 23 نومبر (اتوار) کو ہونے والے ضمنی انتخاب کے نتائج میں ردوبدل یا دھاندلی کی کوشش کرنے والوں کو سخت انتباہ جاری کیا تھا۔

#ECP pic.

twitter.com/egxQd8Iff0

— Election Commission of Pakistan (OFFICIAL)???????? (@ECP_Pakistan) November 20, 2025


الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ اسے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ان ریمارکس کا نوٹس ملا ہے جن میں انہوں نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور انتخابی عملے کو دھمکیاں دیں، اور جلسے میں موجود عوام اور عام لوگوں کو اشتعال دلایا۔

بیان میں کہا گیا کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے غیر ذمہ دارانہ رویے نے نہ صرف این اے -18 ہری پور میں پرامن ضمنی انتخاب کا انعقاد مشکل بنا دیا ہے بلکہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، انتخابی ڈیوٹی پر تعینات عملے اور ووٹرز کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کی اہلیہ شہرناز عمر ایوب کو انتخابات ایکٹ 2017 اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے کل طلب کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ شہرناز عمر ایوب اس نشست پر امیدوار ہیں جو ان کے شوہر کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔

الیکشن کمیشن نے بتایا کہ اس نے صوبائی الیکشن کمشنر کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا اور آئی جی پولیس سے ملاقات کر کے ضروری حفاظتی انتظامات کرے اور اس کے بعد رپورٹ الیکشن کمیشن کو ارسال کرے۔

گزشتہ روز اپنی تقریر میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ریاستی اداروں پر اپنا کردار ادا نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک بڑے سیاسی موڑ کے دہانے پر کھڑا ہے اور ملک میں انصاف سے محروم رکھا جا رہا ہے اور جمہوری اصولوں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

سہیل آفریدی نے ریاستی اداروں سے آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کی اپیل بھی کی۔

پی ٹی آئی رہنما نے 23 نومبر کو شہرناز کی فیصلہ کن جیت کی پیش گوئی کی، اور دعویٰ کیا کہ آنے والے انتخاب میں کوئی حقیقی مقابلہ نہیں ہے۔

جلسے سے کئی پی ٹی آئی رہنماؤں نے خطاب کیا جن میں عمر ایوب، سینیٹر فیصل جاوید، ایم این اے جنید اکبر، ایم پی اے افتخار خان جدون، سابق ایم این اے عظمیٰ ریاض اور مومنہ باسط بھی شامل تھیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن سہیل آفریدی عمر ایوب

پڑھیں:

فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا

فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی

دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔

امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔

فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام

فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

کالا ہرن کیس کیا تھا؟

سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔

اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔

یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول

سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن

متعلقہ مضامین

  • ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر