سرکاری ملازمین کو دھمکی آمیز بیان، الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کو کل طلب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
سرکاری ملازمین کو دھمکی آمیز بیان، الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کو کل طلب کرلیا WhatsAppFacebookTwitter 0 20 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا ضمنی انتخاب پر مامور سرکاری ملازمین کے خلاف دھمکی آمیز الفاظ کا نوٹس لیتے ہوئے کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں سہیل افریدی کو کل ذاتی حیثیت میں الیکشن کمیشن طلب کر لیا۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ صوبے کے چیف ایگزیٹو کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کی وجہ سے این اے 18 ہری پور میں پُرامن ضمنی ا نتخاب کا انعقاد مشکل ہو گیا، ضلعی انتظامیہ ، پولیس اور الیکشن ڈیوٹی پر مامور عملہ اورووٹروں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہواہے۔
صوبائی الیکشن کمشنر نے چیف سیکرٹری اور آئی جی سے میٹنگ کرنے کا حکم دیا، الیکشن کمیشن نے معاملے کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے چیف منسٹر خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور امیدوار مسماۃ شہرناز عمر ایوب کو الیکشنز ایکٹ 2017ء اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر کل مورخہ 21 نومبر 2025 کو طلب کر لیا۔
دوسری جانب ترجمان وزیراعلیٰ پختونخوا نے کہاکہ وزیراعلیٰ کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جارہا ہے۔
ترجمان وزیر اعلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ایبٹ اباد جلسے کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے،وزیراعلیٰ کا پیغام واضح تھا، الیکشن میں مداخلت پر سخت “قانونی کارروائی” ہوگی۔
ترجمان نے کہا کہ انتخابات میں مداخلت جرم ہے، وزیراعلیٰ نے اسی قانونی حقیقت کی نشاندہی کی، الیکشن کے دوران کسی بھی غیرقانونی کارروائی کے لیے فوری اور مناسب قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ نے کسی شخص کو دھمکی نہیں دی، بات محض قانون کے نفاذ کی تھی، ایماندار افسران مکمل تحفظ میں ہیں، صرف قانون توڑنے والوں کو جواب دینا ہوگا، وزیراعلیٰ کے بیان کو غلط رنگ دینا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے، صوبائی حکومت ہر قیمت پر شفاف اور غیرجانبدارانہ ضمنی انتخابات یقینی بنائے گی۔
سہیل آفریدی نے ایبٹ آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 23 نومبر کو ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی امیدوار عمر ایوب کی اہلیہ 2 لاکھ ووٹ لیکر کامیاب ہوں گی۔
انہوں نے انتظامیہ اور پولیس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کے دن بدمزگی ہوئی تو آپ رات تک عہدوں پر نہیں رہیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد میں دبئی طرز کا جدید کرکٹ سٹیڈیم تعمیر کرنے کا فیصلہ امریکا میں گورنر کا شرعی عدالتوں کی تحقیقات کا حکم، مسلمانوں میں شدید غم و غصہ شہباز شریف نے فون پر اعتراف کیا کہ میں نے لاکھوں جانیں بچائیں، امریکی صدر پولیس سے جعلی مقدمے، بچیاں، عورت اغوا کرانا کہاں کا انصاف ہے؟ جسٹس محسن اختر کالعدم ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین کو استعمال کر کے پاکستان میں متعدد حملے کیے: ڈنمارک جسٹس محسن اختر کیانی کے آئینی عدالت سے متعلق اہم ریمارکس چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن اجلاس 2 دسمبر کو ہوں گےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن نے سہیل ا فریدی
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔