پشاور، تحریک انصاف جلسے میں بدانتظامی، گنڈاپور ذمہ دار قرار، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ وزیراعلیٰ KP نے مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
پشاور(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف ضلع پشاور نے 27 ستمبر 2025کے جلسے میں بدانتظامی اور ناقص انتظامات کا ذمہ دار وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو قرار دے دیا ہے۔ ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پشاور جلسے کے انتظامات کے ذمہ دار تھے، جن کا مقصد بہتر نظم، سیکیورٹی اور زیادہ سے زیادہ عوامی شرکت کو یقینی بنانا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پشاور کا عوامی اجتماع پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین کی ہدایت پر منعقد کیا گیا تھا تاکہ جاری قانون شکنی، آئینی خلاف ورزیوں اور پی ٹی آئی رہنماؤں و کارکنوں کی سیاسی انتقامی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا جا سکےلیکن جلسے میں بدترین انتظامات تھے ۔ بدبو و اورغلاظت کے باعث ماحول ناخوشگوا ر اور آوارہ کتوں کی موجودگی سے سیکورٹی خدشات پیدا ہوئے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے قریبی ذرائع نے پی ٹی آئی پشاور کی حقائق جانچ رپورٹ کو جانبدار، بدنیتی پر مبنی اور یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے رپورٹ میں درج تمام الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیا۔ذرائع کے مطابق پشاور کے عوامی اجتماع کے مقام کا فیصلہ پشاور کی تنظیم نے خود کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں پشاور کے ایم پی ایز، ایم این ایز، ضلعی صدور اور جنرل سیکریٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاء نے اجتماعی طور پر جلسے کے مقام کی منظوری دی۔ذرائع نے انکشاف کیا کہ تمام انتظامی ذمہ داریاں ایک تنظیمی کمیٹی کو دی گئی تھیں جس کے سربراہ بلال اعجاز تھے، جنہیں پارٹی کی مرکزی قیادت نے نامزد کیا تھا۔ یہی کمیٹی اسٹیج کے انتظام، پولیس سے رابطے، مہمانوں کی فہرستوں، پاسز اور تمام لوجسٹک انتظامات کی ذمہ دار تھی۔ذرائع نے وضاحت کی کہ اسٹیج کے انتظامات اور مجموعی اہتمام مکمل طور پر پشاور کی تنظیمی کمیٹی کے ذمے تھے اور علی امین گنڈاپور کا ان عملی امور سے کوئی تعلق نہیں تھا۔قریبی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ذاتی طور پر مہمانوں اور شرکاء کی سہولت کے لیے 10 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیےجس میں حکومت کی ایک پائی بھی شامل نہیں۔ شرکاء کے قیام کا انتظام پشاور کے 80 سے زائد ہوٹلوں اور دو شادی ہالوں میں کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں