محسن نقوی کا دورہ پاسپورٹ آفس،دفتر کے بہترین انتظامات پر اطمینان کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
سٹی42: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیفنس لاہور میں قائم ایگزیکٹو پاسپورٹ آفس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاسپورٹ بنوانے کے لیے آئے شہریوں سے ملاقات کی اور ان سے فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔
وزیر داخلہ نے شہریوں سے پاسپورٹ بنوانے کے عمل کی باری کے انتظار، عملے کے رویے اور وقت پر پاسپورٹ کی ترسیل سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ شہریوں نے دفتر کے انتظامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اب نہ لمبی قطاریں ہوتی ہیں اور نہ ہی گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایک شہری نے کہا کہ صرف 5 منٹ میں باری آ جاتی ہے اور پورا پراسیس فوری مکمل ہو جاتا ہے۔
صنم جاوید کو گرفتار کرلیا گیا
شہریوں کا کہنا تھا کہ پہلے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا اور باری آنے پر سسٹم ڈاؤن ہو جاتا تھا لیکن اب صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ عملہ رہنمائی فراہم کرتا ہے اور تمام مراحل واضح اور آسان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ مقررہ مدت میں ڈلیور ہو جاتا ہے، جو ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔
محسن نقوی نے شہریوں کے مثبت تاثرات اور دفتر کے بہترین انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انچارج آفس اور عملے کی کارکردگی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ آفس آکر دلی خوشی ہوئی، بلاشبہ شہریوں کا اطمینان ہی ہماری اصل کامیابی ہے۔
سولر پاور کے بجلی نرخ میں 2 روپے فی یونٹ کمی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں