زہریلی شربت پینے سے 11 بچوں کی موت کے بعد ڈاکٹر گرفتار، کمپنی کے خلاف مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع چھندواڑہ میں بچوں کی اموات کے معاملے پر دوائی تجویز کرنے والے ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ اموات مبینہ طور پر زہریلی کھانسی کی شربت پینے کے بعد ہوئی تھیں۔ حکام کے مطابق اب تک 11 بچوں کی جان جا چکی ہے، پیڈیاٹریشن ڈاکٹر پروین سونی، جو کہ سرکاری ڈاکٹر ہیں، نے اپنے نجی کلینک میں آنے والے مریض بچوں کو کولڈرف سیرپ تجویز کیا تھا۔ بعدازاں بچوں کی حالت بگڑ گئی اور وہ موت کے منہ میں چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: ملک بھر میں جان بچانے والی ادویات کی قلت، پی ایم اے نے خبردار کردیا
مدھیہ پردیش حکومت نے کولڈرف سیرپ بنانے والی کمپنی سریسان فارماسیوٹیکلز (کانچی پورم، تمل ناڈو) کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکومت نے کولڈرف کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے جبکہ کمپنی کی دیگر مصنوعات پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق لیبارٹری رپورٹ میں کولڈرف کے نمونے میں 48.
یہ بھی پڑھیے: شدید گرمی میں دوائیں خراب ہونے سے کیسے بچائیں؟
مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ موہن یادو نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ قصوروار کسی صورت نہیں بچیں گے۔ ریاستی سطح پر انکوائری ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور سخت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ راجستھان میں بھی ایسے ہی 3 بچوں کی اموات سامنے آئی ہیں جبکہ تمل ناڈو اور کیرالا میں کولڈرف سیرپ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ادویات ڈاکٹر شربت علاج کھانسی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ادویات ڈاکٹر علاج کھانسی بچوں کی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔