بھارتی فارما کمپنی کے کھانسی کا شربت پینے سے 8بچوں کی موت: کہرام مچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مدھیہ پردیش : بھارتی فارما کمپنی کے تیار کردہ کھانسی کا مشتبہ زہریلا شربت پینے سے 8 بچوں کی موت واقع ہو گئی گھروں میں کہرام مچ گیا ہے۔
میڈیا ذرائع کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فارما کمپنیوں کی جانب سے تیار کردہ کھانسی کے شربت سے ماضی میں بھی درجنوں اموات دنیا کے کئی ممالک میں رپورٹ ہوئی ہیں اور اب پھر ان ہی کمپنیوں کے تیار کردہ کف سیرپ نے 8 کمسن بچوں کی جان لے لی ہے، جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں کہرام مچ گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بچوں کی اچانک اموات کے دل دہلانے والے واقعات مدھیہ پردیش اور راجھستان میں رونما ہوئے ہیں۔ جس کے باعث متوفی بچوں کے والدین اور اہل علاقہ شدید مشتعل ہو چکے ہیں۔ ریاستی حکومتوں نے بھی ان واقعات کے بعد مذکورہ کف سیرپس پر پابندی عائد کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش کے علاقے چندواڑہ میں 6 بچے اچانک گردے فیل ہونے کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور اس کی وجہ مبینہ طور پر سرکاری اسپتالوں کی جانب سے فراہم کردہ کھانسی کے شربت پینا بتائی جا رہی ہے۔
اسی طرح راجھستان میں تین اور پانچ سالہ بچوں کی المناک موت بھی مبینہ طور پر کھانسی کا شربت پینے سے ہوئی ہے۔ بچوں کو یہ شربت سرکاری اسپتالوں سے فراہم کیے گئے تھے۔ یہ تمام واقعات گزشتہ پندرہ روز کے دوران پیش آئے ہیں۔
بچوں کی اموات کے بعد ریاستی حکومتوں نے کولڈ ریف اور نیکسٹرو ڈی ایس یو نامی کف سیرپس کی اسپتالوں اور وہاں سے مریضوں میں تقسیم روک دی گئی ہے، جس میں مبینہ طور پر زہریلے ڈائیتھیلین گلائکول شامل ہے۔ نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بچوں کی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔