بھارت میں کھانسی کے سیرپ سے بچوں کی اموات، فروخت پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
بھارت میں کھانسی کے سیرپ ’’کولڈرف‘‘ کے استعمال سے بچوں کی اموات کے واقعات نے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
سب سے پہلے تامل ناڈو نے یکم اکتوبر سے کولڈرف سیرپ کی فروخت اور ذخیرہ اندوزی پر پابندی عائد کی، جس کے بعدمدھیہ پردیش اور راجستھان میں بھی اموات سامنے آنے پر ریاستی حکومتوں نے فوری ایکشن لیا۔
مدھیہ پردیش کے ضلع چھندواڑہ میں9 بچوں کی ہلاکت کے بعد وزیراعلیٰ موہن یادو نے سیرپ اور اس کی مینوفیکچرنگ کمپنی کے دیگر پروڈکٹس پر مکمل پابندی لگا دی۔
راجستھان میں بھی 2 بچوں کی اموات کے بعد ریاستی ڈرگ کنٹرولر کو معطل کر دیا گیا جبکہ دوا ساز کمپنی ’’سنس فارما‘‘ کی مصنوعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
مرکزی وزارت صحت اور این سی ڈی سی کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں تحقیقات کر رہی ہیں، جبکہ سیرپ کی سپلائی چین، ڈاکٹروں کے کردار اور دیگر پہلوؤں کی جانچ کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں۔
واضح رہے کہ دوا بنانے والی کمپنی کی فیکٹری تمل ناڈو کے کانچی پورم میں واقع ہے، جہاں ابتدائی رپورٹس کی بنیاد پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بچوں کی
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔