پنجاب میں فیڈ ملز پر گندم کے استعمال پر پابندی، دفعہ 144 نافذ
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
قیصر کھوکھر : پنجاب بھر کی فیڈ ملز میں گندم کو مرغیوں کے دانے میں استعمال کرنے پر دفعہ 144 کا نفاذ، فیصلہ انسانی استعمال کیلئے گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کیلئے کیا گیا۔
حکومت پنجاب نے صوبہ بھر کی فیڈ ملزمیں گندم کے استعمال پر عائد پابندی میں توسیع کردی۔ دفعہ 144 کا نفاذ گندم، آٹے اورروٹی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کیلئے کیا گیا۔ سیکرٹری داخلہ کے حکمنامے کے مطابق گندم صرف فلور ملز میں آٹا بنانے کیلئے استعمال ہو گی۔ حکومت پنجاب نے صوبے میں گندم کی ممکنہ قلت کے خدشات کے پیشِ نظراہم فیصلہ کیا۔ پنجاب میں فیڈ ملز کے پاس 1 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کا ذخیرہ موجود ہے۔ سیکرٹری پرائس کنٹرول کی رپورٹ کے مطابق فیڈ ملزگندم کو مرغیوں کے دانے کیلئے استعمال کرنیوالی تھیں۔ گندم انسانوں کی بنیادی خوراک ہے جسے آٹے کی تیاری میں استعمال ہونا چاہیے۔ پنجاب میں فیڈ ملز پر30 یوم کیلئے گندم کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144(6) کے تحت پابندی لگائی۔ محکمہ داخلہ کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق پابندی کا اطلاق اتوار 2 نومبر تک ہوگا۔ عوام الناس کی آگاہی کیلئے حکمنامے کی سرکاری گزٹ، اخبارات و ذرائع ابلاغ کے زریعے بھرپور تشہیر کی ہدایت کی گئی۔
خلیل الرحمان قمر ہنی ٹریپ کیس، آمنہ عروج کی اپیل پر سماعت 8 اکتوبر کومقرر
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: فیڈ ملز
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔