ویب ڈیسک: پروازوں کی روانگی میں کئی کئی گھنٹے تاخیر اور مسلسل منسوخی کے بعدپاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے سیرین ائیرکا ائیرآپریٹر سرٹیفکیٹ معطل کردیا ۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی نے سیرین ائیرلائن انتظامیہ کوفوری طور پر ائیرآپریٹرسرٹیفکیٹ اتھارٹی کےپاس جمع کرانےکی ہدایت کردی ہے۔
 مراسلے میں کہا گیاہے کہ میسرز سیرین اپنے بیڑے میں کم ازکم طیاروں کی تعداد برقرار رکھنے کے ریگولیٹری تقاضے پورا کرنے میں ناکام رہا،ائیر لائن کے پاس اپنے آپریشنز کےلیے اس وقت قابل استعمال طیارے کی تعداد صفر ہے،قابل استعمال طیارہ نہ ہونا سی اے اے قوانین کے تحت محفوظ آپریشن کی شرط کے خلاف ہے،اس صورتحال میں سرین ائیر فوری طور پر جاری کردہ ائر آپریٹر سرٹیفکیٹ جمع کرا دے ۔

بیٹی کی آن لائن ہراساں کر نے پر اکشے کمار نے حکومت سے بڑا مطالبہ کردیا

دوسری جانب سیرین ایئر انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ان کاایک جہاز سعودی عرب میں پرندہ ٹکرانے کی وجہ سے گراؤنڈ ہے ، مسافر سعودیہ میں پھنسے ہوئے ہیں ، سول ایوی ایشن اتھارٹی سے درخواست ہے کہ طیارے کو وطن واپس لانے کی اجازت دی جائے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سول ایوی ایشن اتھارٹی

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟