سندھ ایگریکلچرل ریسرچ نان گزیٹڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداران نے حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت)سندھ ایگریکلچرل ریسرچ نان گزیٹڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے نو منتخب عہدے داروں کی حلف برداری کی تقریب منعقد کی گئی ڈائریکٹر جنرل ریسرچ سندھ ڈاکٹر مظہر الدین کیریو نے نو منتخب عہدیداران سے حلف لیا ملازمین کے مسائل حل کیے جائیں گے ملازمین ادارے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتے ہیں تفصیلات کے مطابق سندھ ایگریکلچرل ریسرچ کے ھال میں سندھ ایگریکلچرل ریسرچ نان گزیٹڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے نو منتخب عہدیداران کی حلف برداری کی تقریب منعقد کی گئیتقریب کے مہمان خصوصی ڈائریکٹر جنرل ریسرچ سندھ ڈاکٹر مظہر الدین کیریو، ڈائریکٹر سندھ ایگریکلچرل سینٹر ٹنڈوجام ڈاکٹر امداد سوھو تھے ڈائریکٹر جنرل ریسرچ ڈاکٹر مظہر الدین کیریو نے نو منتخب عہدیداران سے حلف لیا اس موقع پر ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے انھوںنے کہا کہ سندھ ایگریکلچرل ریسرچ کے ملازمین ادارے کی ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان ملازمین کی انتھک محنت سے یہ ادارہ ترقی کی جانب گامزن ہے انہوں نے کہا کہ ادارے کے ملازمین کے جائز مطالبات پرموشن، تبادلہ سمیت دیگر مسائل کو ہرممکن حل کرنے کی کوشش کی جائے گی سندھ ایگریکلچرل ریسرچ نان گزیٹڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے نو منتخب صدر ملوک اجن، جنرل سیکریٹری شریف کاٹھیو، سینئر نائب صدر غلام شبیر جتوئی، نائب صدر محمود مگسی نے کہا کہ سارینگا نے ہمیشہ ملازمین کے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے، اور کئی مسائل کو حل بھی کرایا ہے انہوں نے کہا کہ حالیہ سندھ بھر میں ملازمین کے مطالبات کے لئے احتجاج کے دوران بھی ہم نے ٹنڈوجام سمیت سندھ بھر میں احتجاج کیا اور ملازمین کے مسائل کو حل کرایا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملازمین کے نے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔