پرواز کے قابل جہاز نہ ہونے کی وجہ سے سیرین ایئر کی پروازیں اور سرٹیفکیٹ معطل
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
پاکستان کی نجی فضائی کمپنی سیرین ایئر نے اپنے تمام فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ کمپنی کا ایئر آپریٹر سرٹیفکیٹ معطل کر دیا گیا ہے۔
کمپنی کے ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ غیر متوقع حالات کے باعث کیا گیا ہے تاہم یہ ایک مختصر وقفہ ہے اور جلد پروازیں دوبارہ شروع کر دی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیے: ہوا بازی سیاحت کی لائف لائن ہے، ایوی ایشن ورکنگ گروپس قائم کیے جا رہے ہیں، رانا ثنا اللہ
سیرین ایئر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ادارہ متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ مسافروں کی حفاظت، سہولت اور اعتماد کمپنی کی اولین ترجیح ہے۔
دوسری جانب سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے سیرین ایئر کے کمرشل فلائٹ آپریشنز معطل کر دیے۔ یہ اقدام ایئرلائن کی جانب سے قابلِ پرواز بیڑے کو برقرار رکھنے میں ناکامی کے باعث اٹھایا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جاری نوٹیفکیشن میں سی اے اے نے سیرین ایئر کی جانب سے مقررہ کم از کم بیڑے کے سائز کو برقرار نہ رکھنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ فی الحال سیرین ایئر کے پاس قابلِ پرواز جہاز موجود نہیں ہے جس کے باعث ایئرلائن محفوظ فضائی آپریشن کے لیے درکار استعداد برقرار رکھنے سے قاصر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پی آئی اے کی نجکاری اور سماجی و معاشی روٹس کا مستقبل
سی اے اے کے مطابق سیرین ایئر کا ایئر آپریٹر سرٹیفکیٹ فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور کمپنی کو ہدایت کی گئی ہے کہ متعلقہ سرٹیفکیٹس فوری طور پر جمع کرائے جائیں تاکہ ان پر ضروری اندراج کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
serene air سیرین ایئر کمرشل پرواز نجی ایئرلائن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیرین ایئر کمرشل پرواز نجی ایئرلائن سیرین ایئر گیا ہے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔