WE News:
2026-06-02@23:40:50 GMT

خیبرپختونخوا اسمبلی امن جرگے کا اعلامیہ جاری کردیا گیا

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

خیبرپختونخوا اسمبلی امن جرگے کا اعلامیہ جاری کردیا گیا

پشاور میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے زیر اہتمام امن جرگے کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے، جس پر اسپیکر اسمبلی سمیت 21 جرگہ اراکین کے دستخط موجود ہیں۔

اعلامیے کے مطابق امن جرگہ نے تجویز دی ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی ایک جامع صوبائی ایکشن پلان مرتب کرے تاکہ امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مربوط اقدامات کیے جا سکیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ پاک افغان کے تمام تاریخی تجارتی راستوں کو فوری طور پر کھولا جائے، جبکہ پاک افغان خارجہ پالیسی کی تشکیل میں وفاق صوبائی حکومت سے مشاورت کرے اور سفارتی سطح پر روابط کو ترجیح دی جائے۔

جرگے نے وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان تناؤ کم کرنے کی سفارش کی، ساتھ ہی کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس آئینی مدت کے مطابق بلایا جائے۔

اعلامیے میں زور دیا گیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لیا جائے اور امن و امان سے متعلق اسمبلی کی منظور شدہ قراردادوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔

مزید کہا گیا کہ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) داخلی سلامتی کی قیادت کریں گے۔ پولیس اور سی ٹی ڈی کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ صوبے میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔

اعلامیے میں غیر قانونی محصولات، بھتہ خوری اور شورش زدہ علاقوں میں معدنیات کی غیر قانونی نکاسی کے خاتمے کے لیے مربوط پالیسی تشکیل دینے پر زور دیا گیا۔

یہ بھی کہا گیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کو سیکیورٹی اداروں کی کارروائیوں اور ان کی قانونی بنیادوں کے بارے میں ان کیمرہ بریفنگ دی جائے۔

مزید برآں، صوبائی سطح پر امن کے لیے فورمز قائم کرنے کی سفارش کی گئی جن میں غیر سرکاری اراکین کو بھی شامل کیا جائے، جبکہ شہری سطح پر پولیس، کنٹونمنٹ بورڈز اور بلدیاتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے لیے خصوصی سیلز قائم کیے جائیں۔

اعلامیے کے مطابق ان سیلز کو چیک پوسٹوں کے خاتمے کے لیے مقررہ وقت پر منصوبے تیار کرنے کی ذمہ داری دی جائے گی۔

جرگے نے مقامی حکومتوں کے استحکام اور مالی تحفظ کے لیے آئینی ترامیم کی سفارش بھی کی۔ مزید کہا گیا کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کو صوبائی فنانس کمیشن (پی ایف سی) کے ساتھ منسلک کیا جائے اور وفاق صوبے کے آئینی مالی حقوق کی مد میں واجب الادا رقم فوری ادا کرے۔

اعلامیے کے آخر میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت بین الصوبائی تجارت پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ خیبرپختونخوا کو گندم کی ترسیل ممکن ہو سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے خاتمے کے لیے کہا گیا کہ

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟