پنجاب حکومت نے کالعدم ٹی ایل پی کی جائیدادیں اور اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں ٹی ایل پی کے نام پر موجود تمام جائیدادوں اور اثاثوں کی تفصیلات جمع کر کے 15 نومبر تک محکمہ داخلہ کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کی تمام جائیدادیں اور اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں ٹی ایل پی کے نام پر موجود تمام جائیدادوں اور اثاثوں کی تفصیلات جمع کر کے 15 نومبر تک محکمہ داخلہ کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ فیصلہ چیئرمین سب کیبنٹ کمیٹی خواجہ سلمان رفیق کی زیرِ صدارت اجلاس میں کیا گیا، جس کے بعد سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، بورڈ آف ریونیو، سیکرٹری ہاؤسنگ، سیکرٹری کوآپریٹو اور دیگر متعلقہ محکموں کو باضابطہ ہدایات جاری کر دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محکمہ داخلہ
پڑھیں:
رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سےجمع کرائی گئی،جس میں ثاقب چدھڑ کےکاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کےمطابق ثاقب چدھڑ کےخلاف سپیکرپنجاب اسمبلی کےپاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے،اس لیے ان کی رکنیت برقرار رہنےیا نہ رہنے کےمعاملے کی جانچ پڑتال کے لیےانتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہےکہ رکن پنجاب اسمبلی پرایک خاتون کومہنگی گاڑیاں،قیمتی تحائف اورجائیداد تحفےمیں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں،جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔
درخواست گزار نےمؤقف اپنایاکہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا ثاقب چدھڑ، انکی اہلیہ اور زیرِ کفالت افراد کے تمام پرانے اور نئے اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
مزید :