UrduPoint:
2026-07-24@03:19:59 GMT

بھارت میں کھانسی کا شربت پینے سے کئی بچے ہلاک

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

بھارت میں کھانسی کا شربت پینے سے کئی بچے ہلاک

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 اکتوبر 2025ء) حکام کے مطابق تین بھارتی ریاستوں میں اس کھانسی کے شربت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وزارت صحت کے بیان میں کہا گیا کہ اس کف سیرپ کے نمونوں میں ڈائیتھیلین گلائکول (ڈی ای جی) نامی زہریلا مادہ موجود تھا جو مبینہ طور پر اموات کا سبب بنا۔

ڈی ای جی ایک صنعتی مادہ ہے اور خوارک میں اس کی تھوڑی سی مقداربھی انسان کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ موہن یادیوو نے کہا کہ اس شربت کی فروخت پر پورے مدھیہ پردیش میں پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یادو نے مزید کہا کہ شربت بنانے والی فارما کمپنی کی دیگر مصنوعات کی فروخت پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق دیگر ریاستوں نے بھی اس کمپنی کی مصنوعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔

(جاری ہے)

بھارت میں دواسازی کی صنعت شک کے دائرے میں

اس واقعے کے بعد بھارت کی دواسازی کی صنعت کے بارے میں نئے سرے سے جانچ پڑتال شروع ہوچکی ہے۔

2022 میں گیمبیا میں کھانسی کا شربت پینے سے تقریبا 70 بچوں کی موت واقع ہوئی تھی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ شربت ایک بھارتی دوا ساز کمپنی نے بنائی تھی۔ بھارت نے تاہم ڈبلیو ایچ او کی اس رپورٹ سے اختلاف کیا تھا۔

2023 میں ایک بار پھر ڈبلیو ایچ او نے بھارت میں بنائی گئی ایک کھانسی کے شربت کو ازبکستان میں 18 بچوں کی موت سے جوڑا گیا تھا۔

عراق میں بھی دواؤں میں زہریلے مادوں کی موجودگی کے انکشاف کے بعد گزشتہ دس ماہ میں بھارتی ادویات کے خلاف پانچویں بار عالمی وارننگ جاریکی گئی ہے۔

پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کے مطابق بھارت دنیا بھر میں سپلائی کی جانے والی جنیرک ادویات کا تقریبا 20 فیصد فراہم کرتا ہے۔ بھارت کی اس سرکاری ایجنسی نے مزید کہا کہ اس کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری حجم کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔

ادارت: شکور خان

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے مطابق

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار  تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا  تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک