خیبر پختونخوا میں دو الگ کارروائیوں میں 15 خوارج ہلاک ، آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں دو مختلف کارروائیوں میں 15 خوارج کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 15 اور 16 نومبر کے دوران خیبر پختونخوا میں کیے گئے دو مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں ’’انڈین پراکسی فتنہ الخوارج‘‘ سے تعلق رکھنے والے 15 دہشت گرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں ان کے سرغنہ عالم محسود بھی شامل ہے۔
محمدبن سلمان کی ٹرمپ سے ملاقات، امریکہ میں ایک کھرب ڈالر تک سرمایہ کاری بڑھانے کا اعلان
ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں کیا گیا، جہاں فورسز نے مزید 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں تاکہ کسی بھی ’’بھارتی سرپرستی یافتہ‘‘ دہشت گرد کو مکمل طور پر ختم کیا جاسکے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے شروع کیے گئے وژن "عزمِ استحکام" کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشت گردی کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی، اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
اسحاق ڈار کی ماسکو میں صدر پوٹن سے ملاقات
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: آئی ایس پی آر کے مطابق
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
پشاور:خیبر پختونخوا میں 19 جولائی سے اب تک ہونے والی تیز بارشوں اور فلش فلڈ سے گھروں کی چھتیں و دیواریں گرنے اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے کے باعث 28 افراد جاں بحق اور 29 افراد زخمی ہوگئے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مجموعی طور پر جاں بحق افراد میں 10 مرد، 15 بچے اور 3 خواتین جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 9 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 47 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 37 گھروں کو جزوی اور 10 گھر مکمل منہدم ہوئے۔
حادثات صوبے کے مختلف اضلاع پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال اپر و لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، کوہستان اپر، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد امدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عوام سےاپیل کی جاتی ہے کہ بلا وجہ سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔