دبئی ایئر شو 2025 کے منتظمین نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی کمپنیاں اس سال کے ایئر شو میں شرکت نہیں کریں گی۔

دبئی ایئر شو 2025 کے حوالے سے پریس کانفرنس کے دوران، انفورما کے مینیجنگ ڈائریکٹر ٹموتھی ہاؤس نے بتایا کہ اسرائیلی کمپنیاں نمائش کا حصہ نہیں ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد سے دبئی کے لیے پرواز بھرنے والا جہاز بھارت کیسے جا پہنچا؟

ایئر شو اگلے ماہ منعقد ہوگا، جس میں 98 ممالک شرکت کر رہے ہیں جبکہ 20 سے زائد ممالک کے پویلینز بھی قائم کیے جائیں گے۔

The countdown to the 19th edition of @DubaiAirshow is on ✈️✈️

Today, senior leaders from across #aviation, space, and defence – including our CEO, Paul Griffiths, gathered to outline how this year’s show will set new benchmarks for #sustainability, advanced urban air mobility,… pic.

twitter.com/WTNHFe14tg

— Dubai Airports (@DubaiAirports) October 7, 2025

اسرائیلی میڈیا نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل اس سال دبئی ایئر شو میں شریک نہیں ہوگا۔

ٹموتھی ہاؤس کے مطابق، دفاعی شعبہ دبئی ایئر شو کا ایک اہم حصہ ہے، جو تقریباً 40 سے 50 فیصد نمائش پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس سال 98 ممالک کی نمائندگی ہوگی، جن میں مختلف دفاعی اور تجارتی ادارے شامل ہیں۔

’تاہم، اسرائیلی کمپنیاں نمائش میں حصہ نہیں لے رہی ہیں۔‘

گزشتہ سال 2023 میں دبئی ایئر شو کے 18ویں ایڈیشن کے دوران 101 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدے طے پائے تھے۔

ہاؤس نے بتایا کہ اس سال کے سودے تشکیل پانے کے مراحل میں ہیں اور توقع ہے کہ 17 سے 21 نومبر تک دبئی ورلڈ سینٹرل میں ہونے والے ایئر شو کے دوران نئے معاہدوں اور آرڈرز کا سلسلہ واضح طور پر سامنے آئے گا۔

’ایونٹ کے پھیلاؤ اور بین الاقوامی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے پیشِ نظر دبئی ایئر شو وہ پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں بڑی کمپنیاں اپنے معاہدوں پر دستخط کرتی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس سال بھی یہ ایک کامیاب اور نتیجہ خیز ہفتہ ثابت ہوگا۔‘

مزید پڑھیں:دبئی میں ملازمت کے متلاشی افراد کے لیے خصوصی ویزا کا اجرا، کفیل کی ضرورت نہیں ہوگی

ہاؤس نے مزید بتایا کہ دبئی ایئر شو میں پہلی بار چینی کمپنی کومیک اپنے مسافر طیارے پیش کرے گی۔

’یہ پہلا موقع ہے کہ ایک چینی طیارہ ساز ادارہ خطے میں اپنی کئی طیاروں کی نمائش کرے گا۔‘

دبئی ایئر شو میں بوئنگ، ایئربس، بمبارڈیئر، امبریئر سمیت تمام بڑی عالمی فضائی کمپنیوں کے کئی طیارے نمائش کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: برج خلیفہ کے بعد سب سے اونچا ہوٹل بھی دبئی میں، عمارت کتنی منزلہ اور کیا کیا سہولیات ہوں گی؟

اس کے علاوہ فوجی طیاروں، بڑے مسافر طیاروں اور eVTOL ٹیکنالوجی کے جدید نمونوں کی بھی شاندار نمائش ہوگی۔

’یہ دنیا کا واحد مقام ہوگا جہاں ایک ہی جگہ تمام بڑی فضائی کمپنیوں کے طیارے بیک وقت دیکھے جا سکیں گے۔ یہ واقعی ایک شاندار اور تاریخی نمائش ثابت ہوگی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل دبئی ایئر شو

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل دبئی ایئر شو دبئی ایئر شو میں اس سال کے لیے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان