سعودی نمائش میں منگولیائی باز 4 کروڑ 87 لاکھ روپے میں نیلام، نیا ریکارڈ قائم
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
بین الاقوامی سعودی فالکنز اینڈ ہنٹنگ ایگزیبیشن 2025 میں تاریخ کا سب سے مہنگا منگولیائی باز 6 لاکھ 50 ہزار سعودی ریال (قریباً 4 کروڑ 87 لاکھ روپے) میں نیلام ہوا۔
سعودی پریس ایجنسی (SPA) کے مطابق نیلامی میں بالغ ’حُر قرناس‘ باز کی بولی 1 لاکھ ریال سے شروع ہوئی، جو سخت مقابلے کے بعد 6 لاکھ 50 ہزار ریال تک پہنچی۔
اسی نیلامی میں ایک نوجوان ’حُر فرخ‘ باز بھی 1 لاکھ 28 ہزار ریال میں فروخت ہوا۔
مزید پڑھیں: پاکستان ملائیشیا کو 200 ملین ڈالرز کا گوشت برآمد کرے گا، وزیراعظم شہباز شریف کی ملائیشین ہم منصب کے ہمراہ گفتگو
نمائش میں پہلی بار منگولیائی بازوں کے لیے خصوصی زون قائم کیا گیا ہے، جہاں مشرقی ایشیا خصوصاً منگولیا سے لائے گئے اعلیٰ نسل کے باز نمائش کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔
یہ باز اپنی جسمانی مضبوطی، لمبے پروں، تیز پرواز اور سخت موسمی حالات میں برداشت کی صلاحیت کے باعث باز پروری کے شوقینوں میں بے حد مقبول ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
4 کروڑ 87 لاکھ روپے حُر قرناس‘ سعودی فالکنز اینڈ ہنٹنگ ایگزیبیشن 2025 سعودی نمائش منگولیائی باز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 4 کروڑ 87 لاکھ روپے منگولیائی باز منگولیائی باز
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔