آصفہ بھٹو کا پاکستانی بچوں کی زندگیاں بچانے والے چینی ڈاکٹروں کو خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
خاتون اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے پاک چین دوستی، طبی تعاون اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
چینی سفارتخانہ اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری نے پاکستانی بچوں کی زندگیاں بچانے والے چینی ڈاکٹروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ چینی ڈاکٹروں کی ہمدردی اور عزم انسانیت کی بہترین مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور چین کا باہمی تعاون کے نئے عزم کا اعادہ
انہوں نے کہاکہ مڈ آٹم فیسٹیول اتحاد و ہم آہنگی کی علامت ہے جو پاک چین دوستی کے لازوال رشتے کی عکاسی کرتا ہے۔
خاتونِ اوّل نے کہاکہ اسلام آباد اور بیجنگ کی چاندنی مشترکہ خوشحالی، امن اور ترقی کا راستہ روشن کر رہی ہے۔ چینی ڈاکٹروں نے ہمارے بچوں کی زندگیاں بچا کر الفاظ کو عمل میں بدلا، یہی ہمارے تعلقات کی اصل پہچان ہے۔
بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے پروفیسر ڈاکٹر پھان ژیانگ بن اور فو وائی اسپتال کی ٹیم کے لیے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات پاک چین دوستی کی عملی تصویر ہیں۔
انہوں نے پاک چین دوطرفہ پیڈیاٹرک کارڈیالوجی پارٹنرشپ کے قیام، ٹیلی میڈیسن اور نالج شیئرنگ نیٹ ورک کے قیام اور سالانہ فیلوشپ پروگرام کے آغاز کی تجاویز پیش کیں تاکہ دونوں ممالک کے ماہرین اطفال ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں۔
خاتونِ اول نے یہ بھی تجویز دی کہ پاک چین سینٹر آف ایکسی لینس فار پیڈیاٹرک کارڈیک کیئر قائم کیا جائے، جو دوستی کی دائمی علامت ہوگا اور پاکستانی بچوں کو عالمی معیار کا علاج فراہم کرے گا۔
شہید بینظیر بھٹو کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری نے کہاکہ بی بی شہید کا یقین تھا کہ صحت ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ شہید بی بی کا قول ہے کہ قیادت ایمانِ محکم، برداشت اور وژن کے ساتھ آگے بڑھنے کا نام ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج ہم ان بچوں کی نئی زندگیوں کا جشن منا رہے ہیں جنہیں پاک چین تعاون نے دوبارہ مسکراہٹ دی ہے۔
بی بی آصفہ بھٹو نے این آئی سی وی ڈی اور گمبٹ انسٹی ٹیوٹ کے مفت علاج کے پروگراموں کو مساوی صحت کی فراہمی کی علامت قرار دیا۔
چین اور پاکستان نہ صرف آئرن برادرز ہیں بلکہ آئرن سسٹرز بھی ہیں، چینی سفیرتقریب کے دوران چینی سفیر جیانگ ژائی ڈونگ نے خاتونِ اول کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ مڈ آٹم فیسٹیول خوشی، اتحاد اور خاندانی میل ملاپ کی علامت ہے، اور آج ہم ایک بڑے خاندان کی طرح پورے چاند کے نیچے جمع ہیں۔
چینی سفیر نے بچوں کے دلوں کے علاج میں پاک چین تعاون کو انسانیت سے وابستگی کی اعلیٰ مثال قرار دیا اور پروفیسر ڈاکٹر پھان ژیانگ بن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ چین اور پاکستان نہ صرف آئرن برادرز ہیں بلکہ آئرن سسٹرز بھی ہیں۔
سفیر نے بتایا کہ بلوچستان میں خواتین کے لیے 70 ہزار سے زیادہ ہیلتھ پیکجز تقسیم کیے گئے، جو چین کی پاکستانی عوام سے دوستی اور یکجہتی کا ثبوت ہیں۔
تقریب میں علاج پانے والے بچوں اور والدین نے اپنے جذباتی تاثرات کا اظہار کیا اور چینی ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی جوڑے کو باکس میں ملنے والی پاکستانی لڑکی نے سوشل میڈیا مداح سے شادی کیوں کی؟
ڈاکٹر پھان ژیانگ بن نے اپنے آن لائن خطاب میں کہاکہ پاک چین ڈاکٹروں کا اشتراک دیرپا نتائج دے گا اور یہ تعاون آنے والی نسلوں کی صحت مند زندگی کی بنیاد رکھے گا۔
یہ تقریب نہ صرف پاک چین تعلقات کا مظہر تھی بلکہ انسانیت، محبت اور خدمت کے جذبے کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آصفہ بھٹو زرداری چینی ڈاکٹرز چینی سفیر خاتون اول خراج تحسین وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا صفہ بھٹو زرداری چینی ڈاکٹرز چینی سفیر خاتون اول وی نیوز آصفہ بھٹو زرداری نے چینی ڈاکٹروں کرتے ہوئے چینی سفیر انہوں نے نے کہاکہ بچوں کی کو خراج پاک چین
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔